روس اور یوکرین کے لیے امریکی حکومت کے خصوصی ایلچی کیتھ کیلوگ نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں کہا کہ روس یوکرین امن مذاکرات میں یورپی ممالک شامل نہیں ہوں گے۔ کیلوگ نے یہ بھی وضاحت کی کہ نئے منسک معاہدے کی ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ اُس وقت مذاکرات میں شامل متعدد فریق امن عمل کو نافذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے، لہذا امریکہ ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرائے گا۔
یاد رہے کہ 2015 کے نئے منسک معاہدے کے مذاکرات کاروں میں روس، یوکرین، جرمنی اور فرانس شامل تھے ۔
یورپی فریق نے فوری طور پر اس بیان پر اعتراض کیا اور یوکرین پر بات چیت کے لئے اپنا سربراہی اجلاس منعقد کرنے کا منصوبہ ترتیب دیا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ جان نویل بارو نے سولہ تاریخ کو اس بات کی تصدیق کی کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون 17 فروری کو پیرس میں ایک اجلاس منعقد کریں گے اور یورپی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کے لئے متعدد یورپی ممالک کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دیں گے۔
Trending
- چین برکس تعاون کو مستحکم مستقبل کی جانب لے جائے گا، بین الاقوامی شخصیات
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن