ریاض: روسی اور امریکی وفود کے درمیان سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مذاکرات ہوئے ،جو تقریباً ساڑھے چار گھنٹے تک جاری رہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، روسی صدر کے معاون اوشاکوف، امریکی وزیر خارجہ روبیو اور امریکی صدر کے مشیر برائے قومی سلامتی والٹز نے مذاکرات میں شرکت کی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مذاکرات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ مذاکرات میں فریقین کے درمیان "پیچیدہ مسائل” کو حل کرنے اور روس یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے چار نکاتی اتفاق رائے پایا گیا۔ فریقین نے دوطرفہ تعلقات میں پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے مشاورتی میکانزم قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے یوکرین تنازع کو پائیدار اور باہمی طور پر قابل قبول انداز میں جلد از جلد ختم کرنے کے لئے اپنی متعلقہ سینئر ٹیمیں مقرر کرنے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے یہ بھی اتفاق کیا ہے کہ مشترکہ جغرافیائی سیاسی مفادات اور اقتصادی و سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے مستقبل میں تعاون کی بنیاد رکھی جائے اور دونوں اطراف کی ٹیموں کے درمیان رابطہ برقرار رکھا جائے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ یورپی یونین کو کسی مرحلے پر مذاکرات میں حصہ لینے کی ضرورت ہے اور یوکرین تنازع کے خاتمے کے لئے یوکرین، یورپ اور روس سمیت تمام فریقوں کی شمولیت لازم ہے۔
اسی روز روسی وزارت خارجہ نے بتایا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران روس نے یوکرین بحران کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ فریقین نے معیشت، توانائی اور خلا کے شعبوں میں تعاون کی بحالی پر بات چیت کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
Trending
- ٹرمپ اور ایران کی دھمکیوں کے باوجود پاکستانی جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کرلی
- پی ایس ایل 11: کراچی کنگز کو شکست، حیدرآباد کنگز مین کی ایونٹ میں پہلی فتح
- ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کانفرنس، وطن عزیز کو کلیدی ملک قرار دے دیا گیا
- کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے غیرملکی پلیئرز کی انجوائےمنٹ، پیڈل اور گالف سرگرمیوں میں شرکت
- پاکستان میں ایران اور امریکا کے وفود کی ملاقات فیصلہ کن لمحہ ہے، شاہد آفریدی
- کراچی کنگز کے کپتان ڈیوڈ وارنر فٹنس کے مسائل سے دو چار
- روئی کی قیمتیں دو سال کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
- ترک صدر نے مذاکرات ناکام ہونے پر اسرائیل پر حملے کی دھمکی دے دی
- Pakistan makes a great start at the South Asian Jujitsu Championship 2026
- ایران کا بڑا فیصلہ، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر ٹول ٹیکس لازمی ہوگا