بیجنگ: یورپی یونین کی جانب سے اعلان کردہ روس کے خلاف پابندیوں کے 16 ویں دور میں کچھ چینی کمپنیوں اور افراد کو شامل کیا گیا۔ 25 فروری کو چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ چین نے ہمیشہ بین الاقوامی قانون کی بنیاد اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ضوابط سے مطابقت نہ رکھنے والی کسی بھی یکطرفہ پابندی کی مخالفت کی ہے اور چینی کاروباری اداروں اور افراد کے خلاف یورپی یونین کی غیر معقول پابندیوں پر بار بار شدید عدم اطمینان اور سخت مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین کا یہ اقدام چین اور یورپی یونین کے رہنماؤں کے درمیان اتفاق رائے کے جذبے کی خلاف ورزی ہے اوراس سے چین اور یورپی یونین کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ چین یورپی یونین پر زور دیتا ہے کہ وہ چینی کمپنیوں کو فہرست میں شامل کرنا اور چین پر الزام تراشی بند کرے۔ چین اپنے کاروباری اداروں کے جائز اور قانونی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات اختیار کرے گا۔
Trending
- پہلے نصف سال میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا
- چین کا ترکیہ سے ڈبلیو ٹی او کے پینل فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ
- چین میں رواں سال 4 لاکھ 53 ہزار ایجادی پیٹنٹس کی منظوری
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
- گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش کو اجاگر کیا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا نیو نیو ٹریو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ