بیجنگ: یورپی یونین کی جانب سے اعلان کردہ روس کے خلاف پابندیوں کے 16 ویں دور میں کچھ چینی کمپنیوں اور افراد کو شامل کیا گیا۔ 25 فروری کو چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ چین نے ہمیشہ بین الاقوامی قانون کی بنیاد اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ضوابط سے مطابقت نہ رکھنے والی کسی بھی یکطرفہ پابندی کی مخالفت کی ہے اور چینی کاروباری اداروں اور افراد کے خلاف یورپی یونین کی غیر معقول پابندیوں پر بار بار شدید عدم اطمینان اور سخت مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین کا یہ اقدام چین اور یورپی یونین کے رہنماؤں کے درمیان اتفاق رائے کے جذبے کی خلاف ورزی ہے اوراس سے چین اور یورپی یونین کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ چین یورپی یونین پر زور دیتا ہے کہ وہ چینی کمپنیوں کو فہرست میں شامل کرنا اور چین پر الزام تراشی بند کرے۔ چین اپنے کاروباری اداروں کے جائز اور قانونی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات اختیار کرے گا۔
Trending
- چین برکس تعاون کو مستحکم مستقبل کی جانب لے جائے گا، بین الاقوامی شخصیات
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن