عرب ممالک کے ہنگامی سربراہی اجلاس میں مصر کی جانب سے تجویز کردہ غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کو منظور کیا گیا جس کی فلسطینی اتھارٹی، فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) اور اقوام متحدہ نے حمایت کی، تاہم امریکا اور اسرائیل نےاس کی مخالفت کا اظہار کیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اجلاس میں کہا کہ وہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کی کسی بھی بیانیے کے واضح مخالف ہیں۔ حماس نے اسی دن تعمیر نو کے منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حماس غزہ کی پٹی کے مستقبل کا تعین کرنے کے حوالے سے بیرونی قوتوں کو مسترد کرتی ہے۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی قیادت میں غزہ کی پٹی کی تعمیر نو میں "حقیقت پسندانہ بنیاد کا فقدان ہے” اور اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ غزہ منصوبے کی حمایت کرتا ہے۔ امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز نے 4 مارچ کو ایک بیان میں کہا کہ عرب ممالک کے منصوبوں سے اصل مسائل حل نہیں ہوتے۔ اس سلسلے میں مصر کے وزیر خارجہ عبداللہ عطیہ نے 5 تاریخ کو اسرائیل کی مذمت کی کہ وہ فلسطینی اتھارٹی اور اقوام متحدہ کے اداروں کی قانونی حیثیت کو نظر انداز کرتے ہوئے بھوک کو "اجتماعی سزا کے آلے” کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
Trending
- پاکستان کی غیرملکی کرنسی ڈیفالٹ ریٹنگ بی مائنس برقرار: فچ
- اسلام آباد معاہدہ ہونے والا تھا پھر کیا چیز رکاوٹ بنی؟ایران نے بتا دیا
- پی ایس ایل 11: ملتان سلطانز کا پشاور زلمی کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
- مفت سولر پینل کا حصول اور آسان
- ایلون مسک کا کورونا ویکسین سے متعلق سنسنی خیز دعویٰ
- بین الاقوامی برادری کو چین کو درست طور پر سمجھنا چاہیے ، ہسپانوی وزیرِاعظم
- چین اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات ترقی کی جانب گامزن رہیں گے، چینی وزیر خارجہ
- ٹرمپ ایران پر محدود حملے کرنے پر غور کر رہے ہیں،امریکی اخبارکادعویٰ
- فلپائن کی جانب سے نام نہادمشترکہ گشت کا انعقاد علاقائی امن و استحکام کے لئے نقصان کا باعث ہے،چینی سدرن تھیٹر کمانڈ
- آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارتی سامان اور توانائی کے لیے ایک اہم راستہ ہے، چینی وزارت خارجہ
Prev Post