سویڈن کے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2020 سے 2024 تک مجموعی عالمی اسلحے کی برآمدات میں امریکی ہتھیاروں کا تناسب 43 فیصد بنا جو 2015 سے 2019 تک کے 35 فیصد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، برآمدات میں امریکہ کا حصہ دوسرے نمبر پر موجود فرانس کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے، جو دوسرے سے نویں نمبر پر موجود ممالک کے مشترکہ حصے کے برابر ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امریکہ نے 100 سے زائد ممالک اور خطوں کو ہتھیار برآمد کیے ہیں اور یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بھی بن گیا ہے۔
نیٹو کے یورپی ارکان کی جانب سے اسلحے کی درآمدات میں بھی 2015 سے 2019 کے مقابلے میں 105 فیصد اضافہ ہوا ہے اور امریکی ہتھیاروں کا حصہ 52 فیصد سے بڑھ کر 64 فیصد ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 20 سال میں پہلی بار یورپ مشرق وسطیٰ کو پیچھے چھوڑ تے ہوئے امریکی ہتھیاروں کا سب سے بڑا برآمدی خطہ بن گیا ہے۔
Trending
- پاک ۔چین کہانیاں | پاکستانی طالبہ ملکی دفاعی شعبوں میں خدمات سر انجام دینے کے لئے پر عزم
- سینکڑوں عمرہ زائرین رُل گئے
- جنوبی کوریا میں فوجداری عدالتی نظام کی تاریخی اصلاحات، پراسیکیوٹرز کے تفتیشی اختیارات ختم
- سونے کی قیمتوں میں آج معمولی کمی
- چین میں انسدادِ دہشت گردی پر بین الاقوامی سمپوزیم کا انعقاد
- چین کی سروس ٹریڈ کا مجموعی حجم 3,779.75 بلین یوآن تک پہنچ گیا
- عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے چین کا مربوط نقطۂ نظر
- چین، شنگھائی میں ٹیکس ریفنڈ درخواستوں میں تقریباً تین گنا اضافہ
- چین کی لاجسٹکس صنعت کا خوشحالی انڈیکس توسیع کی حد میں برقرار
- روسی پیسیفک فلیٹ کی بڑے پیمانے پر بحری مشق کا آغاز