امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےمقامی وقت کے مطابق 16 مارچ کی شام کو کہا کہ وہ 18 تاریخ کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ریاست فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی پر ٹرمپ نے میڈیا کو بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ روس یوکرین تنازع کو ختم کرنے کا موقع موجود ہے۔ روسی صدارتی معاون اوشاکوف نے اسی روز کہا کہ روس پیوٹن اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے لئے تیاریاں کر رہا ہے۔
17 تاریخ کو روسی اخبار “ازویسٹیا” کی اطلاع کے مطابق ، روسی نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر گروشکونے ایک انٹرویو میں کہا کہ امن معاہدے تک پہنچنے کے لئے ، روس کو “قابل اعتماد سیکیورٹی گارنٹی” کی ضرورت ہے ، جس میں یوکرین کی نیٹو میں شمولیت سے انکار کرنا اور یوکرین کا غیر جانبدار حیثیت برقرار رکھنا بھی شامل ہے۔ گروشکو نے کہا کہ روس، امریکہ اور نیٹو سے امن معاہدے میں ‘سیکیورٹی گارنٹی’ شامل کرنے کا مطالبہ کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یورپ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت سے انکار کرنا، یوکرین میں غیر ملکی فوجیوں کی تعیناتی یا اسے استعمال کرکے روس پر فوجی دباؤ ڈالنے کی کوشش ترک کرنا لازمی ہے۔ اگر یورپی یونین، نیٹو یا ریاست کے نام پر یوکرین میں امن دستے بھیجتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ تنازع کے فریق بن جائیں گے اور انہیں اس سے پیدا ہونے والے تمام نتائج برداشت کرنے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن معاہدے تک پہنچنے کے بعد ہی مبصرین بھیجنے یا معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے متعلقہ میکانزم کے قیام پر بات چیت ممکن ہوگی۔
Trending
- برطانوی ادارے کا پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا اعلان
- حکومت کا نئے صوبوں کے معاملے پر قومی اسمبلی، سینیٹ میں بحث کرانے کا اعلان
- انٹرنیشنل ٹی 20 ورلڈ لیگ کے پانچویں سیزن کا افتتاح، تقریب میں شعیب اختر اور بریٹ لی کی شرکت
- سلیم خان کی طبیعت اب کیسی ہے؟ ہیلن نے مداحوں کے ساتھ بڑی خبر شیئر کردی
- حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، وزیراعظم
- احتجاج توڑ پھوڑ کا مقدمہ؛ پی ٹی آئی کے آٹھ ارکان اسمبلی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
- لامین یامال نے کم عمر ترین کپتان بننے کا اعزاز حاصل کرلیا
- ڈوین جانسن نے 22 کلو وزن کیسے اور کیوں کم کیا؟ اداکار نے راز بتا دیا
- حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا اعلان
- قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی غیر معیاری موبائل سروس پر برہم، ٹیلی کام کمپنیوں کو طلب کرلیا