نیویارک: درآمد شدہ گاڑیوں پر 25 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا امریکی صدر کا اقدام 3 اپریل کو باضابطہ طور پر نافذ ہوگیا ہے ۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ جن مصنوعات کو اسٹیل اور ایلومینیم ٹیرف اور آٹو ٹیرف کا سامنا ہے وہ “ریسیپروکل ٹیرف” کے تابع نہیں ہوں گی۔
ٹرمپ نے 26 مارچ کو وائٹ ہاؤس میں ایک اعلامیے پر دستخط کیے تھے جس میں درآمد شدہ گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کی دستاویز کے مطابق 25 فیصد ٹیرف درآمد شدہ مسافر کاروں (سیڈان، ایس یو وی وغیرہ) اور ہلکے ٹرکوں کے ساتھ ساتھ اہم آٹوموٹو اجزاء (انجن، ٹرانسمیشن وغیرہ) پر لاگو ہوگا اور اگر ضروری ہوا تو اسے دیگر پرزوں تک بڑھایا جائے گا۔
اس سے قبل امریکہ نے گاڑیوں پرمجموعی طور پر 2.5 فیصد محصولات عائد کیے تھے ۔ وائٹ ہاؤس کی دستاویز کے مطابق گاڑیوں پر تازہ ترین 25 فیصد ٹیرف موجودہ محصولات کی بنیاد پر عائد کیے جا رہے ہیں۔
Trending
- چین برکس تعاون کو مستحکم مستقبل کی جانب لے جائے گا، بین الاقوامی شخصیات
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن