بیجنگ:چین کی اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن فار مارکیٹ ریگولیشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق پہلی سہ ماہی میں چین میں 1.979 ملین نئے نجی کاروباری ادارے قائم ہوئے، جو سال بہ سال 7.1 فیصد اضافہ ہے اور یہ گزشتہ تین سالوں کی اوسط شرح نمو سے زیادہ ہے۔ مارچ کے اختتام تک، چین میں کل 57 ملین سے زائد رجسٹرڈ نجی کاروباری ادارے موجود ہیں ، جو کاروباری اداروں کی کل تعداد کا 92.3 فیصد ہیں. حالیہ عرصے میں چین کے نجی کاروباری اداروں اورانفرادی کاروبار کی ترقی نے مضبوط لچک کا مظاہرہ کیا ہے.
نئے معیار کی پیداواری صلاحیت نجی کاروباری اداروں کی ترقی میں ایک نیا روشن پہلو بن گئی ہے. پہلی سہ ماہی میں ، "چار نئی”یعنی نئی ٹیکنالوجیز، نئی صنعتیں، نئی شکلیں، اور نئے ماڈلز کے حامل 836،000 نئے نجی کاروباری ادارے چین میں قائم ہوئے ، جو اسی عرصے میں نئے قائم ہونے والے نجی کاروباری اداروں کی کل تعداد کا 40 فیصد سے زیادہ ہیں، اور یہ سال بہ سال 1.4 فیصد کا اضافہ ہے۔ ان میں، انٹرنیٹ اور جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سروس انٹرپرائزز میں سب سے تیزی سے اضافہ ہوا، جو 18 فیصد تک پہنچ گیا. پہلی سہ ماہی میں "ڈیجیٹل معیشت” پر مبنی 274،000 نئے نجی کاروباری ادارے قائم ہوئے ، جو نئے نجی کاروباری اداروں کی کل تعداد کا 13.9 فیصد ہیں ، اور ان میں سے "ڈیجیٹل پروڈکٹ سروس انڈسٹری” میں سب سے تیزی سے اضافہ ہوا ،جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریبا 2.5 گنا ہے۔ مارچ کے اختتام تک ، چین کی "چار نئی” معیشت میں کل 22.678 ملین نجی کاروباری ادارے موجود ہیں ، جو اعلی معیار کی معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لئے ایک اہم محرک قوت بن چکے ہیں۔
Trending
- فیفا ورلڈکپ: امریکا پہنچنے پر سینیگال فٹبال ٹیم کی سخت چیکنگ کی ویڈیو وائرل
- سونا مہنگا ہوگیا؛ 3 دن وقفے کے بعد قیمتیں آج بڑھ گئیں
- ورلڈکپ کے آغاز سے قبل فیفا اور انفینٹینو کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز
- وفاقی بجٹ میں تاخیر وفاق و صوبوں میں ٹیکس آمدنی کی تقسیم پر تنازع کی وجہ سے ہے، انکشاف
- پاک ایران سرحدی تجارت بند ہونے اور ایل پی جی بحران کی تردید
- فیفا ورلڈکپ بھی سیاست سے داغدار، ایران کیلیے مختص ٹکٹ واپس لے لیے گئے
- وفاقی بجٹ: پی او ایس سسٹم نہ لگانے والے ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں متعارف کروانے کا فیصلہ
- بجٹ منظوری کی راہ ہموار، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر وفاق اور صوبے رضامند ہو گئے
- شان مسعود کی جگہ نیا ٹیسٹ کپتان کون ہوگا؟
- قومی بچت اسکیموں اور سروا اسلامک اسکیموں کے لیے شرح منافع میں اضافہ