چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں چین کی ڈیجیٹل انڈسٹری نے 8.5 ٹریلین یوآن کی کاروباری آمدنی حاصل کی جو سال بہ سال 9.4 فیصد کا اضافہ ہے اور شرح نمو میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4.4 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔ مینوفیکچرنگ اور سروس کے شعبوں میں بالترتیب 10.4 فیصد اور 8.2 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ مارچ کے اختتام تک ملک بھر میں 4.395 ملین 5 جی بیس اسٹیشن تعمیر کیے جا چکے ہیں اور 86 شہروں میں 10 پائلٹ گیگا بٹ آپٹیکل نیٹ ورکس کی تعیناتی کا آغاز کیاگیا ہے۔ چین میں زیر استعمال کمپیوٹنگ پاور سینٹر میں معیاری ریکس کی تعداد 9 ملین سے تجاوز کر گئی ہے۔ مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ پلیٹ فارمز سمیت ابھرتے ہوئے کاروباروں کی بدولت چین میں سافٹ ویئر انڈسٹری نے 3.1 ٹریلین یوآن کی کاروباری آمدنی حاصل کی ، جو سال بہ سال 10.6 فیصد کا اضافہ ہے۔
Trending
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن
- 26ویں چائنا انٹرنیشنل فیئر فار انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ میں چین میں سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع نمایاں
- امریکا فوری طور پر چین کے خلاف جاسوسی سرگرمیاں بند کرے، چینی وزارت تجارت