امریکی سیاسی خبر رساں ویب سائٹ “پولیٹیکو” نے ستائیس تاریخ کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی طالب علموں کے لیے سوشل میڈیا سنسرشپ کا دائرہ کار بڑھانے پر غور کرتے ہوئے نئے اسٹوڈنٹ ویزا انٹرویوز معطل کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اگر امریکی حکومت اس جائزہ منصوبے پر عمل درآمد کرتی ہے، تو اس سے طلباء کے ویزوں کی پروسیسنگ شدید طور پر سست پڑ سکتی ہے، اور اس سے بہت سی امریکی یونیورسٹیاں بھی بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں جو اپنی مالی آمدنی میں اضافے کے لئے بین الاقوامی طالب علموں پر انحصار کرتی ہیں.
ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی بین الاقوامی طالب علموں کے لیے سوشل میڈیا سنسرشپ کی متعدد شرائط نافذ کر چکی ہے۔اس سے قبل نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 25 مارچ کو ایک ہدایت میں بعض طالب علموں اور ویزا درخواست دہندگان کی لازمی سوشل میڈیا جانچ پڑتال کا کہا تھا، جس کا ایک اہم مقصد ایسے طلباء کی ویزا درخواستوں کو مسترد کرنا ہے جو فلسطینیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں اور امریکہ اور اسرائیل کے ناقد ہیں ۔
Trending
- ملک بھر میں جشن میلاد النبی ﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے
- 571 وکٹیں لینے والے نیتھن لائن کا مستقبل خطرے میں آگیا، سلیکٹرز پریشان
- چین نے ہزاروں کلومیٹر دور طیاروں کو فضا میں نشانہ بنانے والا ہائپر سونک میزائل تیارکرلیا
- کراچی میں 12 ربیع الاول کا مرکزی جلوس بولٹن مارکیٹ سے برآمد، سیکیورٹی کے سخت انتظامات
- ٹیسٹ رینکنگ: مچل اسٹارک نے جسپریت بمراہ سے پہلی پوزیشن چھین لی
- اشنا شاہ اور حمزہ امین کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش، اداکارہ نے بیٹے کی تصاویر شیئر کر دیں
- لیاؤچھینگ سے گوادر تک: گدھوں کی صنعت چین -پاکستان زرعی تعاون کو فروغ دے رہی ہے
- پمز ہسپتال کے افسوسناک سانحے پر ڈاکٹر شوکت علی شیخ کا اظہار افسوس
- پمز اسپتال میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے نے پوری قوم کو ہلاکر رکھ دیا ہے، حافظ نعیم الرحمان
- جوکووچ اور سبالینکا یو ایس اوپن مکسڈ ڈبلز سے باہر