امریکی سیاسی خبر رساں ویب سائٹ "پولیٹیکو” نے ستائیس تاریخ کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی طالب علموں کے لیے سوشل میڈیا سنسرشپ کا دائرہ کار بڑھانے پر غور کرتے ہوئے نئے اسٹوڈنٹ ویزا انٹرویوز معطل کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اگر امریکی حکومت اس جائزہ منصوبے پر عمل درآمد کرتی ہے، تو اس سے طلباء کے ویزوں کی پروسیسنگ شدید طور پر سست پڑ سکتی ہے، اور اس سے بہت سی امریکی یونیورسٹیاں بھی بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں جو اپنی مالی آمدنی میں اضافے کے لئے بین الاقوامی طالب علموں پر انحصار کرتی ہیں.
ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی بین الاقوامی طالب علموں کے لیے سوشل میڈیا سنسرشپ کی متعدد شرائط نافذ کر چکی ہے۔اس سے قبل نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 25 مارچ کو ایک ہدایت میں بعض طالب علموں اور ویزا درخواست دہندگان کی لازمی سوشل میڈیا جانچ پڑتال کا کہا تھا، جس کا ایک اہم مقصد ایسے طلباء کی ویزا درخواستوں کو مسترد کرنا ہے جو فلسطینیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں اور امریکہ اور اسرائیل کے ناقد ہیں ۔
Trending
- ہینڈ شیک تنازع کرکٹ سے نکل کر ٹینس کورٹ تک جا پہنچا
- ٹک ٹاکر جنت مرزا کی عید پر گوشت پیکنگ کی ویڈیو نے نئی بحث چھیڑ دی
- یوسین بولٹ کا ریکارڈ توڑنے والے کو ایک کروڑ ڈالر انعام کی پیشکش
- سہ فریقی سیریز: پاکستان ویمنز ٹیم پہلا میچ جمعہ کو ویسٹ انڈیز کیخلاف کھیلے گی
- راولپنڈی میں اراضی تنازع پر فائرنگ، باپ بیٹا جاں بحق
- چین میں خوابوں کی تکمیل کے متلاشی پاکستانی کاروباریوں کی سرحد پار گرمجوش کہانیاں
- خیبر پختونخوا؛ چیف سیکرٹری نے وزیراعلیٰ سے اختلافات کی تردید کردی
- چین۔پاکستان تعلقات ایک نئی اسٹریٹجک سطح پر پہنچ چکے ہیں، چینی میڈیا
- "تائیوان کی علیحدگی” کا راستہ بند گلی کی جانب لے جاتا ہے، چینی وزارتِ دفاع
- چین، امریکہ محصولات مذاکرات میں پیش رفت