بیجنگ : (چائنا ڈیسک ) چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے یومیہ نیوز بریفنگ میں چین اور یورپ کے تجارتی تعلقات کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین اور یورپ کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی بنیاد دو طرفہ فائدے اور جیت جیت پر مبنی تعاون ہیں۔ چین کبھی بھی یورپ کے ساتھ تجارتی سرپلس کے حصول کی دانستہ کوشش نہیں کرتا۔ترجمان نے کہا کہ اگر خدمات کی تجارت اور سرمایہ کاری کی آمدنی کو نظر انداز کر کے صرف اشیاء کی تجارت کو دیکھا جائے، تجارتی ساخت اور منافع کے بہاؤ کے بجائے صرف تجارتی اعداد و شمار کو مدنظر رکھا جائے، اور چین سے درآمدات کو دیکھا جائے جبکہ اپنی برآمدی پابندیوں کو نظر انداز کیا جائے تو فطری طور پر تجارت کے ‘غیر متوازن ہونے کے یکطرفہ نتیجہ پر پہنچا جا سکتا ہے۔ترجمان ماؤ نِنگ کا کہنا تھا کہ چاہے یہ”خطرے کو کم کرنا” ہو، ‘انحصار کم کرنا’ ہو یا نام نہاد ” ‘تجارتی توازن ہو، درحقیقت یہ سب تجارتی تحفظ پسندی کی مختلف شکلیں ہیں۔ یورپی فریق کو چین-یورپ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو ہمہ گیر اور غیر جانبدارانہ نظر سے دیکھنے اور آزاد تجارتی وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیئے ۔
Trending
- خیبر پختونخوا؛ چیف سیکرٹری نے وزیراعلیٰ سے اختلافات کی تردید کردی
- چین۔پاکستان تعلقات ایک نئی اسٹریٹجک سطح پر پہنچ چکے ہیں، چینی میڈیا
- "تائیوان کی علیحدگی” کا راستہ بند گلی کی جانب لے جاتا ہے، چینی وزارتِ دفاع
- چین، امریکہ محصولات مذاکرات میں پیش رفت
- چین اور یورپ کے تعلقات جیت جیت کے اصول پر قائم ہیں
- چین اور پاکستان کی افواج کے درمیان قریبی تعلقات ہیں ، چینی وزارت دفاع
- چین اور امریکہ کے تعلقات دو طرفہ تعلقات کے دائرے سے زیادہ اہم ہیں، چینی وزیر خارجہ
- چین-امریکہ دوستی کی کہانیاں عوام لکھتے ہیں، چینی صدر
- چین اور سورینام کے درمیان دوستی کی ایک طویل تاریخ ہے، چینی صدر
- چین اور آسٹریا کے تعلقات نے مستحکم ترقی کو برقرار رکھا ہے، چینی صدر