خطے کو جنگ سے بچانے کے لیے مسلم اُمہ کا اتحاد ناگزیر ہے، ڈاکٹر شوکت علی
بین الاقوامی برادری جنگ روکنے کے لیے فوری کردار ادا کرے، جنرل سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ برطانیہ
برمنگھم: پاکستان مسلم لیگ (اوورسیز) برطانیہ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شوکت علی نے کہا ہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک ہنگامی کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات، معزز مہمانانِ گرامی اور پارٹی کارکنان بڑی تعداد میں شریک تھے۔
ڈاکٹر شوکت علی نے کہا کہ خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر چین، روس اور شمالی کوریا کو عملی طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ اس ممکنہ عالمی جنگ کو روکا جا سکے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر اس تصادم کو نہ روکا گیا تو پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے، جو کہ لمحۂ فکریہ ہے۔
اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیا گیا حملہ بلاجواز ہے، جس کا مقصد دنیا کی توجہ فلسطین اور غزہ میں جاری ظلم و ستم سے ہٹانا ہے، جہاں لاکھوں بے گناہ افراد کو شہید کیا جا چکا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
ڈاکٹر شوکت علی نے عراق اور لیبیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صدام حسین کے پاس کوئی نیوکلیئر ہتھیار نہیں تھے، پھر بھی انہیں شہید کر دیا گیا۔ معمر قذافی کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔ ایسے حالات کے پیش نظر ایک بین الاقوامی کمیٹی کی تشکیل ناگزیر ہے جو عالمی سطح پر انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرے، نہ کہ طاقتور ممالک اپنی مرضی سے کمزور ملکوں پر چڑھ دوڑیں۔
انہوں نے پاکستان کی بہادر مسلح افواج کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فوج نے اپنے سے پانچ گنا زیادہ طاقتور دشمن کو شکست دی۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی، اپنی بہادر افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ مگر یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خطرات کے بادل ابھی بھی خطے پر منڈلا رہے ہیں، اس لیے ہمیں ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ پوری مسلم اُمہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائے، کیونکہ صراطِ مستقیم ہی ہماری بقا کی واحد ضمانت ہے۔
اس موقع پر صدر برمنگھم محمد شفیق، لندن سے آئے ہوئے لیگل ایڈوائزر محمد احمد، محترمہ اقراء تنویر (صدر یوتھ ونگ لندن)، مسٹر شہزاد (یوتھ ونگ برمنگھم)، اکرم شیرازی (ایڈوائزر)، اختر میاں اختر (سیکریٹری اطلاعات) اور محترمہ سمیرا (صدر وومن ونگ برمنگھم) سمیت مختلف مکاتبِ فکر کی معروف شخصیات نے شرکت کی۔
آخر میں مہمانوں کی تواضع روایتی پاکستانی کھانوں سے کی گئی۔