کیوبا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں امریکی صدر کی جانب سے 30 جون کو قومی سلامتی کی صدارتی یادداشت نمبر 5 کو دوبارہ جاری کیے جانے کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ اس اقدام سے امریکہ کے ‘جارحانہ عمل اور تسلط پسندانہ مقاصد’ کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ 2017 میں اسی نام کی یادداشت پر عمل درآمد کے بعد کیوبا کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کیوبا کی معاشی مشکلات کی بنیادی وجہ وہ آٹھ سالہ پابندی ہے۔ کیوبا کی وزارت خارجہ ان پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیتی ہے اور اسے "خودمختار ریاستوں کے خلاف جارحیت کے ہتھیار کے طور پر معاشی جبر” قرار دیتی ہے۔
مقامی وقت کے مطابق 30 جون کو امریکی صدر ٹرمپ نے کیوبا کے خلاف اپنی سخت پالیسی کو دوبارہ شروع کرنے اور مضبوط بنانے کے لیے ایک یادداشت پر دستخط کیے۔
Trending
- فیفا ورلڈکپ: امریکا پہنچنے پر سینیگال فٹبال ٹیم کی سخت چیکنگ کی ویڈیو وائرل
- سونا مہنگا ہوگیا؛ 3 دن وقفے کے بعد قیمتیں آج بڑھ گئیں
- ورلڈکپ کے آغاز سے قبل فیفا اور انفینٹینو کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز
- وفاقی بجٹ میں تاخیر وفاق و صوبوں میں ٹیکس آمدنی کی تقسیم پر تنازع کی وجہ سے ہے، انکشاف
- پاک ایران سرحدی تجارت بند ہونے اور ایل پی جی بحران کی تردید
- فیفا ورلڈکپ بھی سیاست سے داغدار، ایران کیلیے مختص ٹکٹ واپس لے لیے گئے
- وفاقی بجٹ: پی او ایس سسٹم نہ لگانے والے ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں متعارف کروانے کا فیصلہ
- بجٹ منظوری کی راہ ہموار، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر وفاق اور صوبے رضامند ہو گئے
- شان مسعود کی جگہ نیا ٹیسٹ کپتان کون ہوگا؟
- قومی بچت اسکیموں اور سروا اسلامک اسکیموں کے لیے شرح منافع میں اضافہ