کیوبا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں امریکی صدر کی جانب سے 30 جون کو قومی سلامتی کی صدارتی یادداشت نمبر 5 کو دوبارہ جاری کیے جانے کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ اس اقدام سے امریکہ کے ‘جارحانہ عمل اور تسلط پسندانہ مقاصد’ کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ 2017 میں اسی نام کی یادداشت پر عمل درآمد کے بعد کیوبا کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کیوبا کی معاشی مشکلات کی بنیادی وجہ وہ آٹھ سالہ پابندی ہے۔ کیوبا کی وزارت خارجہ ان پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیتی ہے اور اسے "خودمختار ریاستوں کے خلاف جارحیت کے ہتھیار کے طور پر معاشی جبر” قرار دیتی ہے۔
مقامی وقت کے مطابق 30 جون کو امریکی صدر ٹرمپ نے کیوبا کے خلاف اپنی سخت پالیسی کو دوبارہ شروع کرنے اور مضبوط بنانے کے لیے ایک یادداشت پر دستخط کیے۔
Trending
- سعودی عرب کا پاکستان کیلیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ میں توسیع
- چین، 139واں کینٹن فیئر گوانگ چومیں شروع ہو گیا
- چین کی معیشت کا مضبوط آغاز، پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں 5 فیصد اضافہ
- موجودہ صورتحال میں چینی معیشت مضبوطی اور لچک کا مظاہرہ کر رہی ہے ، آئی ایم ایف
- چین، نینگ بو میں فلمی ثقافتی کارنیوال کا آغاز،” فلم+ ” معیشت کو فروغ دینے پر زور
- ایران کی خودمختاری، سلامتی اور جائز حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ
- ایران کا شاہ رخ خان کے مشہور ڈائیلاگ کے ذریعے ٹرمپ کو دلچسپ جواب
- ٹیکس کا پیسہ قوم کی امانت ہے، ایک ایک پائی کا حساب دینا ہماری ذمہ داری ہے، وزیراعظم
- وزیرِ خزانہ کی واشنگٹن میں اہم ملاقاتیں، دو طرفہ تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق
- مقبوضہ کشمیر کے عوام اور سیاسی قیادت کا پاکستانی موثر سفارتکاری پر اظہار تشکر