ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران کا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی منظوری دی۔ یاد رہے کہ 26 جون کو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ ایرانی سپریم کونسل کی منظوری سے ایران کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کی معطلی کا قانون اسی دن باضابطہ طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو جنگ اور جارحیت کی کارروائیوں میں سہولت فراہم کرنے اور اسرائیلی حکومت کی پراکسی بننے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایران اس وقت تک ایجنسی کے ساتھ تمام تعاون بند رکھے گا جب تک کہ اس کی جوہری تنصیبات کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔
Trending
- چین میں ریلوے کے ذریعے 2 ارب سے زائد مسافروں کے سفر کا تاریخی ریکارڈ
- نام نہاد “بحیرۂ جنوبی چین ثالثی فیصلہ” محض ایک بے وقعت دستاویز ہے، چینی میڈیا
- چین کا نام نہاد” بحیرۂ جنوبی چین” ثالثی فیصلےسے متعلق جاپان کے مؤقف پر شدید احتجاج
- کراچی: ڈاکٹرز کی غفلت، والدین پر قیامت ٹوٹ پڑی، 2بیٹوں کے بعد تیسری بچی میں بھی ایچ آئی وی کی تصدیق
- بی آر ٹی ییلو لائن کرپشن کیس: سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت مسترد
- نیویارک کے سمر فینسی فوڈ شو 2026 میں پاکستانی فوڈ مصنوعات کی دھوم
- سولر جنریشن کی تیزی سے توسیع کی وجہ سے بجلی کا شعبہ بنیادی تبدیلی سے گزر رہا ہے، وزیر توانائی
- ایف آئی اے کی جانب سے 39 ہزار سے زائد مسافروں کو آف لوڈ کیے جانے کا انکشاف
- گوادر پورٹ میں نئی تاریخ رقم، پہلی بار بین الاقوامی جہازوں کو ایندھن کی فراہمی
- دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ، سندھ کی روح، اس پر جارحیت ملک پر جارحیت ہوگی، مراد علی شاہ