ریو ڈی جنیرو : چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ نے ریو ڈی جنیرو میں 17 ویں برکس سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا ایک صدی کی تیز تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور بین الاقوامی قوانین اور نظم و نسق کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ وسیع مشاورت، مشترکہ تعمیر اور اشتراک پر مبنی عالمی حکمرانی کے تصور نے اس کی قدر اور عملی اہمیت مزید واضح کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برکس ممالک کو گلوبل ساؤتھ کے "صف اول” دستے کی حیثیت سے خودمختاری کی پاسداری کرتے ہوئے ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اتفاق رائے پیدا کرنے اوریکجہتی حاصل کرنے میں مزید کوششیں کرنی ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ترقی پر توجہ مرکوز کرنا اور ابھرتے ہوئے شعبوں کے ترقیاتی امکانات کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔اس سلسلے میں رواں سال چین چین-برکس نیو کوالٹی پروڈکٹویٹی ریسرچ سینٹر اور نئی صنعتوں کے لئے برکس "سنہری بگلا” ایکسیلینس اسکالرشپ قائم کرے گا تاکہ برکس ممالک کو صنعت اور ٹیلی مواصلات سمیت دیگر شعبوں میں باصلاحیت افراد کی تربیت میں مدد ملے۔چینی وزیر اعظم نے کہا کہ چین برکس ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے تاکہ عالمی حکمرانی کو زیادہ منصفانہ ، معقول ، موثر اور منظم سمت میں فروغ دیا جاسکے۔
Trending
- ٹرمپ اور ایران کی دھمکیوں کے باوجود پاکستانی جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کرلی
- پی ایس ایل 11: کراچی کنگز کو شکست، حیدرآباد کنگز مین کی ایونٹ میں پہلی فتح
- ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کانفرنس، وطن عزیز کو کلیدی ملک قرار دے دیا گیا
- کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے غیرملکی پلیئرز کی انجوائےمنٹ، پیڈل اور گالف سرگرمیوں میں شرکت
- پاکستان میں ایران اور امریکا کے وفود کی ملاقات فیصلہ کن لمحہ ہے، شاہد آفریدی
- کراچی کنگز کے کپتان ڈیوڈ وارنر فٹنس کے مسائل سے دو چار
- روئی کی قیمتیں دو سال کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
- ترک صدر نے مذاکرات ناکام ہونے پر اسرائیل پر حملے کی دھمکی دے دی
- Pakistan makes a great start at the South Asian Jujitsu Championship 2026
- ایران کا بڑا فیصلہ، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر ٹول ٹیکس لازمی ہوگا