ریو ڈی جنیرو : چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ نے ریو ڈی جنیرو میں 17 ویں برکس سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا ایک صدی کی تیز تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور بین الاقوامی قوانین اور نظم و نسق کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ وسیع مشاورت، مشترکہ تعمیر اور اشتراک پر مبنی عالمی حکمرانی کے تصور نے اس کی قدر اور عملی اہمیت مزید واضح کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برکس ممالک کو گلوبل ساؤتھ کے “صف اول” دستے کی حیثیت سے خودمختاری کی پاسداری کرتے ہوئے ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اتفاق رائے پیدا کرنے اوریکجہتی حاصل کرنے میں مزید کوششیں کرنی ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ترقی پر توجہ مرکوز کرنا اور ابھرتے ہوئے شعبوں کے ترقیاتی امکانات کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔اس سلسلے میں رواں سال چین چین-برکس نیو کوالٹی پروڈکٹویٹی ریسرچ سینٹر اور نئی صنعتوں کے لئے برکس “سنہری بگلا” ایکسیلینس اسکالرشپ قائم کرے گا تاکہ برکس ممالک کو صنعت اور ٹیلی مواصلات سمیت دیگر شعبوں میں باصلاحیت افراد کی تربیت میں مدد ملے۔چینی وزیر اعظم نے کہا کہ چین برکس ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے تاکہ عالمی حکمرانی کو زیادہ منصفانہ ، معقول ، موثر اور منظم سمت میں فروغ دیا جاسکے۔
Trending
- 11ویں بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ میں پاکستان کا خصوصی اسٹال، تجارتی، سرمایہ کاری مواقع کی نمائش
- پیٹرول اور ڈیزل آج پھر مہنگا کردیا گیا
- 105 سالہ خاتون نے اپنی طویل زندگی کا راز بتا دیا
- بنگلادیش میں خسرے کی بدترین وبا، اسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی
- گڈز فاروڈنگ ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا
- پیاز کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سامنے آ گئی
- ملک بھر کیلئے بجلی مزید مہنگی کردی گئی، صارفین پر 12 ارب سے زائد اضافی بوجھ پڑے گا
- امریکا چین پر بے بنیاد الزام تراشی سے گریز کرے، چینی وزارتِ خارجہ
- مصنوعی ذہانت کو انسانیت کی بھلائی کی راہ پر برقراررکھیں، چینی میڈیا
- ملک بھر کے اساتذہ نے تدریس کے شعبے میں بھرپور خدمات انجام دی ہیں، چینی صدر