بیجنگ : چینی وزارت خارجہ کی یومیہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے برکس ممالک کو امریکہ مخالف پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے پر تنقید کا نشانہ بنا نے اور ان پر 10 فیصد نئے محصولات عائد کرنے کی دھمکی کے بارے میں چین کی رائے کے بارے میں سوال کیا گیا ۔ پیر کے روز ترجمان ماؤ ننگ نے اس سوال پر کہا کہ برکس میکانزم ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد کھلے پن، شمولیت اور جیت جیت پر مبنی تعاون کی وکالت کرنا ، بلاک محاذ آرائی میں ملوث نہ ہو نا اور کسی بھی ملک کو نشانہ نہ بنانا ہے۔ترجمان نے کہا کہ محصولات کے نفاذ کے حوالے سے چین نے بارہا اپنا موقف بیان کیا ہے کہ تجارتی اور محصولات کی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا اور تحفظ پسندی کا رویہ یقیناً ناکام ہو گا ۔
Trending
- پاکستان کو بڑا دھچکا، کپتان بابر اعظم انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ سے باہر
- اسٹیل ملز سیکٹر پر ایڈوانس سیلز ٹیکس فوری نافذ، ایف بی آر
- جمال موسیالا ایک بار پھر میچ کے دوران گر پڑے، اعصابی عارضے کی تشخیص
- پاک بھارت تنازعات کا حل جنگ نہیں، مذاکرات ہیں، ڈاکٹر شوکت علی شیخ
- نامور بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے ’’آپریشن سندور‘‘ پر بنائی گئی بھارتی دستاویزی فلم کا پول کھول دیا
- ہاکی ورلڈکپ: پاکستان کو ایونٹ میں برقرار رہنے کیلیے بھارت کیخلاف لازمی فتح درکار
- امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں، ایرانی صدر
- 100 انڈیکس میں 254 پوائنٹس کی کمی
- اردن کے شاہ عبداللہ دوم بیجنگ پہنچ گئے
- رواں سال چین میں صارفی اشیاء اور و خدمات کی خوردہ فروخت میں 2.6 فیصد کا اضافہ