امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹرتھ سوشل” پر میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شیئن باوم اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین کو خطوط جاری کیے، جن میں اعلان کیا گیا کہ یکم اگست 2025 سے امریکہ میکسیکو اور یورپی یونین سے درآمد کردہ مصنوعات پر بالترتیب 30 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے اسی روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین نے صدر ٹرمپ کے بھیجے گئے خط کا جائزہ لیا ہے، جس میں نظر ثانی شدہ ٹیرف کی شرح اور نیا شیڈول جاری کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکہ کا یورپی یونین کی برآمدات پر 30 فیصد ٹیرف عائد کرنا بحر اوقیانوس کے دونوں اطراف کی اہم سپلائی چینز کو نقصان پہنچائے گا اور دونوں اطراف کے کاروباروں، صارفین اور عوام کے مفادات کو متاثر کرے گا۔
اسی دن، میکسیکو کی وزارت خارجہ اور وزارت معیشت نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ امریکہ کے یکم اگست سے میکسیکو کی برآمدات پر 30 فیصد نئے ٹیرف کے اعلان کو میکسیکو کی حکومت "غیر منصفانہ سلوک” سمجھتی ہے۔ میکسیکو نے سرحدی کاروباروں اور روزگار کی حفاظت کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔
Trending
- سیکیورٹی اداروں کی کارروائی؛ بھارتی ایجنسی کے لیے جاسوسی کرنے والے 3 افراد گرفتار
- قلندرز اور گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑیوں کی کینسر سے متاثر بچوں سے ملاقات
- امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ
- وزیراعظم شہباز شریف جلد سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے
- پاکستانی صلاحیتوں سے متعلق پاکستان کنفرنس 2026 کا انعقاد
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- ایران اور امریکا کے اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، وزیراعظم
- امریکہ اور ایران کے وفود کی اسلام آباد واپسی کا امکان، امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ
- پیکا قانون کی کہانی؛ صحافیوں اور شہریوں کے لیے کتنا خطرناک بن چکا ہے؟
- آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، : چین