تہران:ایرانی صدارتی دفتر کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسی دن آرمینیا کے وزیر اعظم پاشنیان سے ٹیلیفونک بات چیت میں کہا تھا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتا ہے، لہذا ایران متعلقہ جانچ پڑتال کے بارے میں فکرمند نہیں ہے۔ لیکن ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ طاقت اور دباؤ کے استعمال کے ذریعے ایران کو جائز حقوق سے محروم کرنا کسی بھی طرح ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کبھی جنگ نہیں چاہا بلکہ ایران نے امن و استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مقامی وقت کے مطابق 19 جولائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم "ریئل سوشل” پر پوسٹ کیا کہ ایران کی تین جوہری تنصیبات "مکمل طور پر تباہ” ہو گئی ہیں۔ اگر ایران تعمیر نو کا ارادہ رکھتا ہے , تو تباہ شدہ جگہ کی مرمت کرنے کے بجائے تین نئی جگہوں پر کام شروع کرنا بہتر ہے۔ امریکی این بی سی نے 17 تاریخ کو خبر دی کہ تازہ ترین جائزے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ ماہ ایران میں تین جوہری تنصیبات پر امریکی فوج کے حملے میں صرف ایک جوہری تنصیب "شدید طور پر تباہ” ہوئی تھی۔ رپورٹ میں اس معاملے سے واقف پانچ افراد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دیگر دو جوہری تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان ‘اتنا سنگین نہیں’ ہے اور اگر ایران چاہے تو وہ چند ماہ کے اندر یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔
Trending
- ٹرین سروس معطل، جعفر ایکسپریس دوسرے روز بھی پشاور نہ پہنچ سکی
- پی ایس ایل 11 میں نئی ٹیموں کی شمولیت سے آمدنی 7.5 ارب روپے سے تجاوز کرگئی
- عورت ہونا جرم ہے؟ مادھوری ڈکشٹ کی نئی فلم نے تہلکہ مچا دیا
- پاور سیکٹر میں جدت کی جانب قدم؛ پبلک سیکٹر میں پہلی بار ڈیٹا گورننس کونسل قائم
- دہلی کے ہوٹل میں آتشزگی سے 18 غیر ملکیوں کی ہلاکت کی تصدیق، حفاظتی کوتاہیوں کا پردہ فاش
- وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اور اسٹاک مارکیٹ ٹیکس برقرار رکھنے کا فیصلہ
- پاکستان فٹبال کی تاریخی فتح نئی، کامیابیوں کا آغاز ہے
- ماہرہ خان کی شاہ چارلس سے ملاقات، برطانیہ کے بادشاہ نے فلاحی کاموں کو بھی سراہا
- غیر قانونی سگریٹوں کے کاروبار پر قابو پانے کیلیے بجٹ میں اہم اقدامات کا فیصلہ
- مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہریوں کا ایک بار پھر پاکستان سے والہانہ محبت کا اظہار