رواں ماہ کے اوائل میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے برطانیہ کے سرکاری دورے کے دوران برطانیہ کے ساتھ نارتھ ووڈ ڈیکلریشن پر دستخط کیے، جس میں پہلی بار یہ واضح کیا گیا کہ فریقین اپنی آزاد جوہری دفاعی فورسز کو مربوط کریں گے۔ 17 جولائی کو جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اپنے دورہ برطانیہ کے دوران برطانیہ کے ساتھ کینسنگٹن معاہدے پر دستخط کیے۔ فریڈرک نے کہا کہ جرمنی جوہری ڈیٹرنس اور یورپی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مشاورت کے لیے تیار ہے اور برطانیہ اور فرانس نے فریڈرک کے بیان کا جواب بھی دیا۔ اس حوالے سے جرمن سیاسی اسکالر نے انتباہ کیا ہے کہ یورپی ممالک جوہری ڈیٹرنس کو مضبوط بنا کر دیرپا امن حاصل نہیں کر سکتے۔
جرمن اسکالریولرک گوئرت کا ماننا ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں کو امید ہے کہ جغرافیائی سلامتی اور امریکی خطرات سے نمٹنے کے لیے یورپ کی مجموعی طاقت میں بہتری آئے گی لیکن جوہری ہتھیاروں پر تینوں ممالک کے درمیان تعاون یورپ میں مزید خطرناک سیکیورٹی صورتحال کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس کی سلامتی کو بھی یورپ کے مشترکہ سکیورٹی ڈھانچے میں شامل کیا جانا چاہیے۔ جوہری ہتھیاروں پر تعاون کو مضبوط بنانا یورپ کے لیے کوئی آپشن نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں ایک غیر جانبدار یورپ کے قیام کیلئے وسیع پیمانے پر بات چیت کرنی چاہیے۔
Trending
- پی سی بی کی ہدایت پر شاہین آفریدی کا فرسٹ کلاس کرکٹ میں شرکت کا فیصلہ
- دریشم 3 کا ٹریلر جاری، اجے دیوگن کے خلاف تابو، جیدیپ اہلاوت اور پرکاش راج
- پیٹرول و ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ
- kp mines and mineral bill 2025 decide under consideration new amendments
- ڈیبیو میچ میں پاکستانی بولر رضااللہ نے انگلش کپتان کو پہلے ہی اوور میں آؤٹ کر دیا
- مائیکل جیکسن کا 2700 ایکڑ کا نَورلینڈ، ذاتی چڑیا گھر اور تھیم پارک
- عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- بے نظیر کو چہرہ دکھانے کے دعویدار آج اپنے حلقے کے زندہ عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں، ایم کیو ایم
- پاکستان انڈر 19 نے انگلینڈ کو 177 رنز سے شکست دے دی
- نیہا ککڑ کا سنیدھی چوہان کو جواب، ریئلٹی شوز فیک کہنے پر کیا کہا؟