امریکی فیڈرل ریزرو نے دو روزہ مانیٹری پالیسی اجلاس کے اختتام پر اعلان کیا کہ وہ وفاقی فنڈز کی شرح کو 4.25فیصد اور 4.50فیصد کے درمیان برقرار رکھے گا۔ یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق ہے اور اس سال فیڈرل ریزرو کے مانیٹری پالیسی اجلاس میں شرح سود کو برقرار رکھنے کا یہ مسلسل پانچواں فیصلہ بھی ہے۔
فیڈرل ریزور کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سال کی پہلی ششماہی میں امریکی اقتصادی ترقی “سست روی” کا شکار ہوئی ہے ، اور اگر یہ رجحان جاری رہا تو یہ مستقبل میں شرح سود میں کمی کی بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔ تاہم، بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ “معاشی غیر یقینی بدستور زیادہ ہے، اور افراط زر اور روزگار کے اہداف دونوں کو خطرے کا سامنا ہے.” فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے مانیٹری پالیسی اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ فیڈ رل ریزرو نے ستمبر میں شرح سود کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ “شرح سود کے اگلے اجلاس کے موقع پر معیشت کے بارے میں متعلقہ معلومات پر غور کریں گے۔ پاول نے کہا کہ فیڈرل ریزرو شرح سود کی پالیسی طے کرتے وقت وفاقی حکومت کی مالی ضروریات پر غور نہیں کرتا۔
Trending
- پی ایس ایل 12 کے لیے دو ونڈوز سامنے آ گئیں، سپر سکسز کی تجویز
- نیشنل انٹیلی جنس بیورو کا قیام ، جاپان کا ارادہ منظر عام پر آ گیا
- فلپائن کی علاقائی حدود میں جزیرہ ہوانگ یئن کبھی ان میں شامل نہیں رہا , چینی وزارت خارجہ
- چین کے نئے تین نمایاں شعبے عالمی مینوفیکچرنگ کی جدت اور اپ گریڈ یشن کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گے، چینی میڈیا
- چین کا امریکہ سے چینی کمپنیوں پر دباؤ بند کرنے کا مطالبہ
- چینی صدر کی قیادت میں چین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، صدر سلوواکیہ
- فیفا کا نجی سرمایہ کاری منصوبے کی شدید مخالفت کے باوجود مشاورت جاری رکھنے کا اعلان
- فٹبال: امتیازی رویے پر کم از کم 10 میچز کی پابندی لازمی قرار
- ملک میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی
- اگست میں ملازمین اور طلبہ کی موجیں؛ چھٹیاں ہی چھٹیاں