امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 31 جولائی کے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے 69 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرفس کا اعلان کیا ہے جو 7 اگست سے نافذ ہوں گے۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے یکم اگست کو اس فیصلے کو “یورپی صنعت کے لیے تکلیف دہ” قرار دیتے ہوئے اسٹیل ٹیرفس پر مذاکرات کا اعلان کیا، یورپی یونین کی مذاکراتی پوزیشن یہ ہے کہ وہ مکمل پیمانے پر تجارتی تنازع شروع نہیں کرنا چاہتی ، کیونکہ اس کا نتیجہ صرف نقصان کی صورت میں برآمد ہو گا، اور سب سے بڑا نقصان یورپ کو ہوسکتا ہے۔سوئٹزرلینڈ کی صدر کیرن کیلر سوتر نے 39 فیصد ٹیرف پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ فیصلہ نہ صرف مینوفیکچرنگ اورگھڑی سازی کی صنعت کو تباہ کرے گا بلکہ عالمی معیشت کو بھی نقصان پہنچائے گا۔
برازیل کے وزیر خزانہ فرنینڈو ہاڈاڈ نے واضح کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے، اور ناکامی کی صورت میں ڈبلیو ٹی او اور امریکی عدالتوں میں اپیل کریں گے۔ برازیل کی حکومت قومی خودمختاری اور معیشت کے دفاع کے لئے اقدامات کرے گی۔ جنوبی افریقہ کے صدر سائریل رامافوسا نے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے “تمام سفارتی وسائل بروئے کار لانے” کا عہد کیا۔
Trending
- ایلیگزینڈر زیوریو نے پہلی مرتبہ یو ایس اوپن کا ٹائٹل جیت لیا
- گزشتہ سال نافذ ہونے والا نیا وائیڈ بال قانون کیا ہے؟ ثناء میر نے وضاحت کردی
- مریم نواز کا بیٹی کے نکاح پر شاہانہ لُک توجہ کا مرکز، جانیے لباس کی خاص تفصیلات
- ملک میں آج بھی سونا سستا ہو گیا
- 72 سالہ ملائیشین فٹبال لیجنڈ نے 20 سالہ لڑکی سے شادی کرلی
- چین مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے اندرونی اور ضمنی خطرات پر خاص توجہ دیتا ہے، چینی وزارت خارجہ
- جب اے آئی دنیا کو “لکھنے” لگے: ہم ایک بےآواز علمی جنگ کے سامنے کھڑے ہیں
- فلپائن کے چین کی حدود میں نام نہاد سمندری دائرہ اختیار کے دعوے غیر قانونی ہیں، چینی وزارت خارجہ
- جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے تائیوان سے متعلق بیانات اور اقدامات چین-جاپان تعلقات کاسب سے بڑا مسئلہ ہیں، چینی وزارت خارجہ
- بنیادی تحقیق پورے سائنسی نظام کا ماخذ ہے، چینی صدر