امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 31 جولائی کے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے 69 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرفس کا اعلان کیا ہے جو 7 اگست سے نافذ ہوں گے۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے یکم اگست کو اس فیصلے کو “یورپی صنعت کے لیے تکلیف دہ” قرار دیتے ہوئے اسٹیل ٹیرفس پر مذاکرات کا اعلان کیا، یورپی یونین کی مذاکراتی پوزیشن یہ ہے کہ وہ مکمل پیمانے پر تجارتی تنازع شروع نہیں کرنا چاہتی ، کیونکہ اس کا نتیجہ صرف نقصان کی صورت میں برآمد ہو گا، اور سب سے بڑا نقصان یورپ کو ہوسکتا ہے۔سوئٹزرلینڈ کی صدر کیرن کیلر سوتر نے 39 فیصد ٹیرف پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ فیصلہ نہ صرف مینوفیکچرنگ اورگھڑی سازی کی صنعت کو تباہ کرے گا بلکہ عالمی معیشت کو بھی نقصان پہنچائے گا۔
برازیل کے وزیر خزانہ فرنینڈو ہاڈاڈ نے واضح کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے، اور ناکامی کی صورت میں ڈبلیو ٹی او اور امریکی عدالتوں میں اپیل کریں گے۔ برازیل کی حکومت قومی خودمختاری اور معیشت کے دفاع کے لئے اقدامات کرے گی۔ جنوبی افریقہ کے صدر سائریل رامافوسا نے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے “تمام سفارتی وسائل بروئے کار لانے” کا عہد کیا۔
Trending
- چائنا میڈیا گروپ اور ایکواڈور کے ایوان صدر کے جنرل انفارمیشن آفس کے درمیان تعاون کی دستاویز پر دستخط
- وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ
- کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے: 5 زخمی ڈاکوؤں سمیت 6 ملزمان گرفتار، بھاری مالِ مسروقہ برآمد
- چین اور ایکواڈور کو سیاسی باہمی اعتماد کو مستحکم کرنا چاہیے، چینی صدر
- مکاؤ کے نئے پانچ سالہ منصوبے سے اعلیٰ معیار کی ترقی کے نئے دور کا آغاز
- عالمی اور مقامی مارکیٹس میں سونے کی قیمتیں برقرار
- چانگ چھون ماڈرن میٹروپولیٹن ایریا ” فلم پلس کھپت سیزن” کا آغاز
- چین شہری اور دیہی علاقوں پر محیط تجارتی نیٹ ورک قائم کرے گا
- پشاور میں فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید، ڈرائیور زخمی
- گال ٹیسٹ: پڈیکل کی شاندار سنچری، بھارت نے پہلی اننگز میں 462 رنز بنالیے