واشنگٹن : امریکی حکومت کے نام نہاد ” مساوی محصولات” کا نیا دور باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوا۔ دنیا بھر کے 69 ممالک اور خطے 10 فیصد سے 41 فیصد تک محصولات کی زد میں ہیں۔ تازہ ترین تخمینے کے مطابق ، امریکہ کے اوسط مؤثر ٹیرف کی شرح 18.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے ، جو تقریباً ایک صدی کی بلند ترین سطح ہے۔ بین الاقوامی رائے عامہ کی نظر میں ، نام نہاد ” مساوی محصولات” کے نفاذ کا مطلب یہ ہے کہ امریکی حکومت کی تجارتی تحفظ پسندی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس سے نہ صرف عالمی معیشت پر گہرا سایہ پڑے گا بلکہ امریکہ کو بھی نقصان پہنچے گا۔یاہو فنانس کا ماننا ہے کہ ٹیرف پالیسی کے منفی اثرات میں تیزی آ رہی ہے۔ متعدد بین الاقوامی اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ حالیہ اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی معیشت ‘کساد بازاری کے دہانے پر ہے۔آئیے سب سے پہلے مینوفیکچرنگ انڈسٹری پر نظر ڈالتے ہیں۔امریکی انسٹی ٹیوٹ فار سپلائی مینجمنٹ کے تازہ ترین سروے کے نتائج کے مطابق ، امریکی مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (پی ایم آئی) جولائی میں مسلسل پانچویں ماہ تک گر کر 48 فیصد تک پہنچ گیا ۔ جولائی میں امریکی مینوفیکچرنگ جی ڈی پی میں شامل 79 فیصد شعبوں میں کمی واقع ہوئی، جو جون میں صرف 46 فیصد تھی۔اب روزگار پر نظر ڈالتے ہیں۔امریکی انسٹی ٹیوٹ فار سپلائی مینجمنٹ نے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی میں امریکی روزگار انڈیکس صرف 43.4 تھا ، جو گزشتہ پانچ سال کی کم ترین سطح ہے۔اس کے علاوہ، امریکہ میں افراط زر کی صورتحال پرامید نہیں ہے. امریکی بیورو آف اکنامک اینالسز کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں افراط زر کے اشاریوں میں شامل ایک عنصر کی حیثیت سے ذاتی کھپت اخراجات کی قیمت انڈیکس (پی سی ای) جون میں پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 2.6 فیصد بڑھ گیا، جو 2 فیصد کے مناسب افراط زر کے ہدف سے زیادہ ہے۔صرف یہی نہیں، بلکہ امریکہ نے ٹیرف غنڈہ گردی کا موقف اختیار کرتے ہوئے اپنی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ ڈوئچے بینک کا ماننا ہے کہ اس جارحانہ ٹیرف پالیسی نے ڈالر کی حیثیت کو نقصان پہنچایا ہے اور عالمی سطح پر "ڈی امریکنائزیشن” میں تیزی آ رہی ہے۔ادھر 7 تاریخ کو چین کے سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ رواں سال کے پہلے سات مہینوں میں چین کی اشیاء کی تجارت میں اضافے کی رفتار برقرار رہی، جس میں سال بہ سال 3.5 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ مکمل طور پر ثابت کرتا ہے کہ محصولات کی غنڈہ گردی طویل مدتی فوائد نہیں لا سکتی، صرف کھلاپن اور تعاون ہی باہمی فائدہ اور مشترکہ کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
****
Trending
- مردان میں پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ، 2 پائلٹس شہید
- فیفا ورلڈ کپ 2026، جاپان اور نیدرلینڈ کا میچ 2-2 گول سے برابر
- ایف بی آر کی ٹیکس اپیلوں کیلئے آزاد جانچ کمیٹی قائم کرنے کی تجویز
- تنخواہ وقت پر نہ ملے تو ملازم کیا کرے؟ سعودی حکومت نے بتا دیا
- محرم الحرام کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا
- فیفا ورلڈ کپ 2026، آئیوری کوسٹ نے ایکواڈور کو 0-1 سے ہرا کر شاندار فتح اپنے نام کر لی
- خصوصی اقتصادی اور ٹیکنالوجی زونز کے فروغ میں ایس آئی ایف سی کا کلیدی کردار
- عمران خان کو اسپتال میں طبی معائنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ منتقل کردیا گیا: چیئرمین پی ٹی آئی
- فیفا ورلڈکپ: سوئیڈن نے تیونس کو 1-5 سے شکست دے دی
- سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، فی تولہ کتنا مہنگا؟