اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دو بظاہر متضاد فیصلے کیے: ایک طرف، انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر پر قبضہ کرنے اور حماس کو شکست دینے کے آپریشنل پلان کو منظور کر لیا ہے۔ دوسری طرف انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ "حماس کے ساتھ مذاکرات فوری طور پر دوبارہ شروع کیے جائیں گے”۔
نیتن یاہو کے اس بیان کے ردعمل میں اسرائیلی عوام نے اسی دن تل ابیب میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اسرائیلی یرغمالیوں کے ایک خاندان کے رکن یہودا کوہن نے اس موقع پر کہا کہ نیتن یاہو پر جنگ ختم کرنے اور معاہدے تک پہنچنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اور یہ کہ "حماس ہتھیار ڈال دے اور یرغمالیوں کو رہا کرے” جیسے کسی مطالبے کی بات کرنا سراسر ناممکن ہے۔ ایک حقیقی معاہدے میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، اور تمام یرغمالیوں کو گھر واپس بھیجنا شامل ہونا چاہیے۔ یہ نیتن یاہو کی ذمہ داری ہے۔
احتجاج میں شامل تل ابیب کے ایک رہائشی نے کہا کہ معاہدے تک پہنچنے کا واحد راستہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ ایک معاہدے تک پہنچے، کیونکہ حماس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، ہم ان کی مطالبات سے واقف ہیں۔اس وقت ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے تاکہ تمام یرغمالیوں کو فوراً گھر واپس لایا جا سکے۔
Trending
- فلپائن کی جانب سے نام نہادمشترکہ گشت کا انعقاد علاقائی امن و استحکام کے لئے نقصان کا باعث ہے،چینی سدرن تھیٹر کمانڈ
- آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارتی سامان اور توانائی کے لیے ایک اہم راستہ ہے، چینی وزارت خارجہ
- امریکہ اور ایران کے مذاکرات صورتحال کو بہتر کرنے کی سمت میں ایک قدم آگے بڑھنے کی کوشش ہیں ، چینی وزارت خارجہ
- چین، چھٹی چائنا انٹرنیشنل کنزیومر پراڈکٹس ایکسپو کا آغاز
- چینی نائب وزیر اعظم ترکمانستان کا دورہ کریں گے
- ایران-امریکہ مزاکرات بارے پاکستان کی سفارتی کامیابی نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی، چینی میڈیا
- ہانگ کانگ میں 2026 ورلڈ انٹرنیٹ کانفرنس ایشیا پیسیفک سمٹ کا شاندار آغاز
- چین، زنگ لی ون کی قیادت میں گو من دانگ پارٹی کے وفد کا چائنیز مین لینڈ کا دورہ مکمل
- 2 پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز پہنچنے کے بعد اچانک واپس بھیج دیا گیا
- مشرقِ وسطیٰ تنازع عالمی معیشت کیلئے بڑا سپلائی شاک ہے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب