اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دو بظاہر متضاد فیصلے کیے: ایک طرف، انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر پر قبضہ کرنے اور حماس کو شکست دینے کے آپریشنل پلان کو منظور کر لیا ہے۔ دوسری طرف انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ "حماس کے ساتھ مذاکرات فوری طور پر دوبارہ شروع کیے جائیں گے”۔
نیتن یاہو کے اس بیان کے ردعمل میں اسرائیلی عوام نے اسی دن تل ابیب میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اسرائیلی یرغمالیوں کے ایک خاندان کے رکن یہودا کوہن نے اس موقع پر کہا کہ نیتن یاہو پر جنگ ختم کرنے اور معاہدے تک پہنچنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اور یہ کہ "حماس ہتھیار ڈال دے اور یرغمالیوں کو رہا کرے” جیسے کسی مطالبے کی بات کرنا سراسر ناممکن ہے۔ ایک حقیقی معاہدے میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، اور تمام یرغمالیوں کو گھر واپس بھیجنا شامل ہونا چاہیے۔ یہ نیتن یاہو کی ذمہ داری ہے۔
احتجاج میں شامل تل ابیب کے ایک رہائشی نے کہا کہ معاہدے تک پہنچنے کا واحد راستہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ ایک معاہدے تک پہنچے، کیونکہ حماس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، ہم ان کی مطالبات سے واقف ہیں۔اس وقت ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے تاکہ تمام یرغمالیوں کو فوراً گھر واپس لایا جا سکے۔
Trending
- عمران خان نے عید الفطر کی طرح آج عید الاضحیٰ کی نماز بھی کیوں نہیں پڑھی؟
- عید الاضحیٰ پر دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام کالعدم تنظیم کا دہشت گرد گرفتار،بارودی مواد برآمد
- عیدالاضحیٰ کے موقع پر ملک کی سیاسی و مذہبی قیادت کی جانب سے قوم اور امتِ مسلمہ کو مبارکباد
- کراچی میں عید کے روز نوجوان مرد اور خاتون کی لاشیں برآمد
- حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر عوامی ریلیف کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، وزیراعظم
- چین اور سربیا کے تعلقات نئی بلندیوں پر
- چینی پارلیمانی وفد کا قازقستان کا دوستانہ دورہ
- ڈچ جنگی جہاز شی شا جزائر کے قریب داخل، چین کا سخت ردعمل
- امن معاہدہ ایرانی قوم کے وقار اور عزتِ نفس کے مطابق جلد طے ہوگا، وزیراعظم کی ایرانی صدر سے گفتگو
- پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، یوم تکبیر پر وزیر اعطم کا دوٹوک پیغام