اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دو بظاہر متضاد فیصلے کیے: ایک طرف، انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر پر قبضہ کرنے اور حماس کو شکست دینے کے آپریشنل پلان کو منظور کر لیا ہے۔ دوسری طرف انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ “حماس کے ساتھ مذاکرات فوری طور پر دوبارہ شروع کیے جائیں گے”۔
نیتن یاہو کے اس بیان کے ردعمل میں اسرائیلی عوام نے اسی دن تل ابیب میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اسرائیلی یرغمالیوں کے ایک خاندان کے رکن یہودا کوہن نے اس موقع پر کہا کہ نیتن یاہو پر جنگ ختم کرنے اور معاہدے تک پہنچنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اور یہ کہ “حماس ہتھیار ڈال دے اور یرغمالیوں کو رہا کرے” جیسے کسی مطالبے کی بات کرنا سراسر ناممکن ہے۔ ایک حقیقی معاہدے میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، اور تمام یرغمالیوں کو گھر واپس بھیجنا شامل ہونا چاہیے۔ یہ نیتن یاہو کی ذمہ داری ہے۔
احتجاج میں شامل تل ابیب کے ایک رہائشی نے کہا کہ معاہدے تک پہنچنے کا واحد راستہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ ایک معاہدے تک پہنچے، کیونکہ حماس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، ہم ان کی مطالبات سے واقف ہیں۔اس وقت ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے تاکہ تمام یرغمالیوں کو فوراً گھر واپس لایا جا سکے۔
Trending
- معیشت کو بیرونی امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری پر منتقل کررہے ہیں، وزیر خزانہ
- حکومت بلوچستان کا سرکاری دفاتر میں جمعہ کا دن بطور ورکنگ ڈے منانے کا فیصلہ
- پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیسٹ اسکواڈ سے 7 کھلاڑیوں کو ریلیز کر دیا
- راج کمار راؤ مسٹر پرفیکشنسٹ کے راہ پر چل پڑے؛ فلم کیلیے وزن بڑھایا اور پھر کم بھی کیا
- آئی ٹی و ٹیلی کام شعبے کا جی ٹو جی براہ راست ٹھیکوں کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ
- چیف جسٹس پاکستان نے بلوچستان ہائیکورٹ میں نئے سہولت مرکز کا افتتاح کر دیا
- اسپانٹک چوٹی سر کرنے والی ڈاکٹر اسماء مشتاق کی لاش مل گئی
- بھارت کی خوبرو اداکارہ کی نازیبا ویڈیو وائرل؛ شالنی پانڈے کا ردعمل سامنے آگیا
- سونا سستا ہوگیا، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں چاندی مہنگی
- ثالثی عدالت کا بھارت کو پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری، پن بجلی منصوبوں پر کام روکنے کا حکم