اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دو بظاہر متضاد فیصلے کیے: ایک طرف، انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر پر قبضہ کرنے اور حماس کو شکست دینے کے آپریشنل پلان کو منظور کر لیا ہے۔ دوسری طرف انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ “حماس کے ساتھ مذاکرات فوری طور پر دوبارہ شروع کیے جائیں گے”۔
نیتن یاہو کے اس بیان کے ردعمل میں اسرائیلی عوام نے اسی دن تل ابیب میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اسرائیلی یرغمالیوں کے ایک خاندان کے رکن یہودا کوہن نے اس موقع پر کہا کہ نیتن یاہو پر جنگ ختم کرنے اور معاہدے تک پہنچنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اور یہ کہ “حماس ہتھیار ڈال دے اور یرغمالیوں کو رہا کرے” جیسے کسی مطالبے کی بات کرنا سراسر ناممکن ہے۔ ایک حقیقی معاہدے میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، اور تمام یرغمالیوں کو گھر واپس بھیجنا شامل ہونا چاہیے۔ یہ نیتن یاہو کی ذمہ داری ہے۔
احتجاج میں شامل تل ابیب کے ایک رہائشی نے کہا کہ معاہدے تک پہنچنے کا واحد راستہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ ایک معاہدے تک پہنچے، کیونکہ حماس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، ہم ان کی مطالبات سے واقف ہیں۔اس وقت ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے تاکہ تمام یرغمالیوں کو فوراً گھر واپس لایا جا سکے۔
Trending
- کالعدم انتشاری ایکشن کمیٹی کے سرغنوں کی نئی نسل کو گمراہ کرنے کی مذموم سازش جاری
- اٹلی کے یانک سنر نے زویریو کو شکست دے کر دوسری بار ومبلڈن ٹینس ٹرافی اپنے نام کر لی
- روئی کی قیمتوں میں 1 ہفتے میں 400 روپے فی من اضافہ
- امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی موت کیسے ہوئی؟ ابتدائی رپورٹ جاری
- ہاکس بے ٹرٹل بیچ کے قریب سمندر میں ڈوب کر خاتون جاں بحق
- قومی ٹیسٹ ٹیم دورہ ویسٹ انڈیز کیلیے روانہ
- عامر خان نے تیسری شادی کے بعد ایک اور اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کرلیا
- امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں سر اٹھانے لگیں
- علی خامنہ ای کے جنازے پر اسرار نقاب پوش کون تھا؟ شناخت ظاہر
- کمزور پاسپورٹ کے باوجود پاکستانی اب بھی کن 30 ممالک میں با آسانی جاسکتے ہیں؟