بیجنگ : امریکہ کی وزارت تجارت نے برآمدات پر کنٹرول کے حوالے سے نئے قواعد جاری کیے۔ ان کے تحت امریکی “انٹیٹی لسٹ” میں شامل کمپنیوں کے 50 فیصد سے زیادہ شیئرز رکھنے والی سبسیڈریز پر یکساں برآمدی کنٹرول پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ قواعد امریکہ کی طرف سے قومی سلامتی کے تصور اور برآمدات پر کنٹرول کے غلط استعمال کی ایک اور واضح مثال ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام انتہائی غلط نوعیت کا ہے، متاثرہ کمپنیوں کے جائز قانونی حقوق کو شدید نقصان پہنچاتا ہے، بین الاقوامی تجارتی نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے، اور عالمی صنعتی و سپلائی چین کی حفاظت اور استحکام کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔چین اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی غلط پالیسی کو درست کرے اور چینی کمپنیوں پر بلاجواز دباؤ ڈالنا بند کرے۔ چین اس حوالے سے ضروری اقدامات کرے گا تاکہ چینی کمپنیوں کے قانونی حقوق و مفادات کا مضبوطی سے تحفظ کیا جا سکے۔
Trending
- چین برکس تعاون کو مستحکم مستقبل کی جانب لے جائے گا، بین الاقوامی شخصیات
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن