بیجنگ : امریکہ کی وزارت تجارت نے برآمدات پر کنٹرول کے حوالے سے نئے قواعد جاری کیے۔ ان کے تحت امریکی “انٹیٹی لسٹ” میں شامل کمپنیوں کے 50 فیصد سے زیادہ شیئرز رکھنے والی سبسیڈریز پر یکساں برآمدی کنٹرول پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ قواعد امریکہ کی طرف سے قومی سلامتی کے تصور اور برآمدات پر کنٹرول کے غلط استعمال کی ایک اور واضح مثال ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام انتہائی غلط نوعیت کا ہے، متاثرہ کمپنیوں کے جائز قانونی حقوق کو شدید نقصان پہنچاتا ہے، بین الاقوامی تجارتی نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے، اور عالمی صنعتی و سپلائی چین کی حفاظت اور استحکام کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔چین اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی غلط پالیسی کو درست کرے اور چینی کمپنیوں پر بلاجواز دباؤ ڈالنا بند کرے۔ چین اس حوالے سے ضروری اقدامات کرے گا تاکہ چینی کمپنیوں کے قانونی حقوق و مفادات کا مضبوطی سے تحفظ کیا جا سکے۔
Trending
- پہلے نصف سال میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا
- چین کا ترکیہ سے ڈبلیو ٹی او کے پینل فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ
- چین میں رواں سال 4 لاکھ 53 ہزار ایجادی پیٹنٹس کی منظوری
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
- گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش کو اجاگر کیا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا نیو نیو ٹریو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ