اعتصام الحق
بیجنگ کے دل میں، ستمبر کی ٹھنڈی ہوا کے ساتھ ایک تاریخی لمحہ دوبارہ جنم لے رہا ہے۔ 13 اور 14 ستمبر کو دنیا بھر سے درجنوں سربراہان مملکت، حکومتی نمائندے، پارلیمانی رہنما، وزراء اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں۔ موقع ہے گلوبل لیڈرز مینٹنگ آن ویمن کا۔ اسی شہر میں جہاں کبھی 1995 میں اقوام متحدہ کی چوتھی عالمی خواتین کانفرنس نے “بیجنگ اعلامیہ” اور “عمل کے لائحہ عمل” کو جنم دیا تھا۔ اب، تیس سال بعد، وہی بیجنگ ایک بار پھر خواتین کی ترقی اور مساوات کی گواہی دینے جا رہا ہے۔
چین کے صدر شی جن پھنگ اس کانفرنس میں ایک اہم خطاب کریں گے۔ ان کی تقریر میں شاید وہی بات جھلکے جو حقیقت میں چین کی سماجی زندگی کے ہر گوشے میں دکھائی دیتی ہے کہ خواتین کے بغیر چین کی موجودہ ترقی ممکن ہی نہیں تھی۔ مگر یہ سفر آسان نہیں تھا۔ خواتین کو گھریلو ذمہ داریوں سے نکال کر قومی ترقی میں شریک کرنے کے لیے چین نے دہائیوں تک محنت کی ہے۔
اس کامیاب سفر کا ایک اہم لمحہ 1992 کا ہے ، جب “خواتین کے حقوق کے تحفظ کا قانون” منظور کیا گیا۔ اس قانون نے اعلان کیا کہ خواتین کو سیاسی، معاشی، ثقافتی، سماجی اور خاندانی زندگی میں مردوں کے برابر حقوق حاصل ہیں۔ اس نے امتیاز کے خاتمے اور خواتین کے قانونی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی۔ پھر رفتہ رفتہ یہ قانون عملی کامیابیوں میں ڈھلنے لگا۔غربت کے خلاف جنگ نے 40 ملین سے زیادہ دیہی خواتین کو غربت سے نجات دلائی۔ “اسپرنگ بڈ پروگرام” نے لاکھوں لڑکیوں کو تعلیم مکمل کرنے میں مدد دی۔ وہ دیہی علاقے جہاں کبھی 90 فیصد خواتین ناخواندہ تھیں، اب وہاں یہ شرح صرف 7.01 فیصد رہ گئی ہے۔ خواتین میں اعلیٰ تعلیم کی شرح 50 فیصد سے بڑھ چکی ہے۔ یونیسکو نے اسی پروگرام کو 2023 میں “تعلیم کے ذریعے تقدیر بدلنے کی مثال” قرار دیا۔
چین نے خواتین کے کام کو عالمی تعاون کے دائرے میں رکھا۔ 2013 کے بعد سے ترقی پذیر ممالک کے لیے 60 سے زیادہ تربیتی پروگرام شروع کیے گئے تاکہ خواتین کی قیادت اور معاشی شرکت میں اضافہ ہو۔ ان کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ 2024 کے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے جائزے میں 120 سے زیادہ ممالک نے چین کی ان کامیابیوں کو تسلیم کیا۔ اور یوں بیجنگ ایک بار پھر اس حقیقت کا استعارہ بن گیا کہ جب خواتین آگے بڑھتی ہیں، تو قومیں ترقی کی نئی سمت اختیار کرتی ہیں۔