News Views Events

انجی کی کہانی

0

 

اعتصام الحق

 

 

مشرق کی طرف سفر کرتے ہوئے ایک وادی  میں فضا میں کانوں سے اٹھتی دھول مٹی  کے سیاہ  بادل اٹھتے تھے، اور کانوں  میں  کام کی آوازیں دن رات گونجتی تھیں  ۔یہ انجی کاؤنٹی تھی   جس کی پہچان سخت زمین اور گرد آلود ہوا  بن گئی تھی ۔ لوگ یہاں گزارا تو کر لیتے تھے، مگر فطرت دن بدن گرد سے اٹ کر کہیں غائب ہو گئی تھی ۔

پھر منظر بدلنا شروع ہوا۔مرکزی  حکومت ،مقامی حکام اور یہاں کے رہنے والوں نے فیصلہ کیا کہ اب وقت ہے کہ یہ دھول سے اٹے پہاڑ پھر سے زندگی کی سانس لیں۔ پرانی کانیں بند ہوئیں، پہاڑی ڈھلوانوں پر نئے پودے لگائے گئے اور جنگلوں کو واپس اپنی جگہ ملنے لگی۔ یہ تبدیلی آسان نہ تھی، مگر ہر نیا پودا، ہر نیا قدم اس کہانی کا حصہ بن گیا۔

آج جب انجی کی گلیوں میں چلیں تو دھول کہیں نظر نہیں آتی۔ اس کی جگہ بانس کے نرم پتوں کی سرسراہٹ ہے اور سفید چائے کے باغات ۔ دیہی سیاحت یہاں کی نئی پہچان بن گئی ہے۔ دور دور سے آنے والے لوگ بانس کے  ان جنگلات میں چلتے ہیں، چائے کے کھیتوں میں رہنے والوں سے کہانیاں سنتے ہیں اور ہوم اسٹے میں ایسے قیام کرتے ہیں جیسے کسی دوست کے گھر آئے ہوں۔

بانس کی پروسیسنگ اس بدلتی معیشت کا مضبوط ستون بن گئی ہے۔ چھوٹی ورکشاپیں بانس کے تنے کو فرنیچر اور دیگر مصنوعات میں ڈھالتی ہیں۔جس سے نہ صرف روزگار پیدا  ہوا  ہے بلکہ فطرت کے ساتھ جڑے رہنے کا احساس بھی بڑھ گیا  ہے۔ سفید چائے کے باغات بھی اب انجی کی نئی شان ہیں، جن کے نازک پتے چین کے شہروں اور بیرون ملک اعلی قیمتوں پر فروخت ہوتے ہیں۔

انجی کی کہانی کسی ایک مقام کی کہانی نہیں۔ چین نے پچھلی دہائیوں میں ماحول کو بچانے کے لیے بڑے اقدامات اٹھائے ہیں۔ کاربن کے اخراج میں کمی، جنگلات کی بحالی اور صاف توانائی کے منصوبے اسی سفر کا حصہ ہیں۔ انجی ان کوششوں کی ایک زندہ مثال ہے، جہاں لوگوں نے دکھایا کہ فطرت اور ترقی آمنے سامنے نہیں کھڑےا ور اگر سمت درست ہو تو دونوں ساتھ چل سکتے ہیں۔

یہ کاؤنٹی اب ایک  نیا نقشہ پیش کرتی  ہے کہ دنیا کے دیگر خطے کیا کر سکتے ہیں۔ فطرت کے ساتھ احترام کا تعلق قائم کر کے خوشحال زندگی ممکن ہے۔ انجی کی وادی میں بس یہی سبق چھپا ہے کہ زمین بھی جواب دیتی ہے، بس اسے تھوڑا وقت اور تھوڑی توجہ چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.