بیجنگ :چین کے قومی ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق حتمی تصدیق کے بعد سال 2024 میں چین کی جی ڈی پی 8066 ۔134ٹریلین یوان رہی، جس میں ابتدائی شمار کے مقابلے میں101.8 بیلین یوان کی کمی ہوئی۔ مستقل قیمتوں پر حساب کرنے پر، پچھلے سال کے مقابلے میں اس میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے جو ابتدائی شمار کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے متعلقہ حکام کے مطابق 2025 میں پورے سال کے دوران مقررہ حجم سے زیادہ صنعتی اداروں کی اضافی مالیت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.9 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ اعدود و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 میں ڈیجیٹل صنعت کی کاروباری آمدنی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 9 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
Trending
- چین برکس تعاون کو مستحکم مستقبل کی جانب لے جائے گا، بین الاقوامی شخصیات
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن