واشنگٹن :امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے، ‘مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں ہے ۔ ان کے بقول، دنیا بھر میں فوجی کارروائیوں کی قیادت کرتے وقت ان پر پابندی لگانے والا واحد عنصر ان کے اپنے “اخلاقی معیار اور ارادہ” ہیں ۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ عالمی سطح پر اختیارات کے استعمال کو صرف ان کے ذاتی “اخلاقی معیار اور ارادہ” ہی محدود کر سکتے ہیں، “یہ وہ واحد چیز ہے جو مجھے روک سکتی ہے”۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا امریکی حکومت کو بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنی چاہیے، تو ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ بین الاقوامی قانون کے تحت محدود ہوتا ہے تو اس صورت میں وہ خود ” ثالث” ہوں گے۔یہ اب تک ٹرمپ کی جانب سے اپنے عالمی نظریے کا سب سے واضح اعتراف ہے، جس کے مطابق وہ امریکی بالادستی کو مضبوط بنانے کے لیے کسی بھی فوجی، معاشی یا سیاسی ذریعے کو آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ ممالک کے درمیان تنازعات میں فیصلہ کن عنصر قانون، معاہدے یا کنونشن نہیں بلکہ قومی طاقت ہونی چاہیے۔
Trending
- دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ، سندھ کی روح، اس پر جارحیت ملک پر جارحیت ہوگی، مراد علی شاہ
- کینیا کے ایتھلیٹ ایمانوئل وانیونی نے 26 سال پرانا عالمی ریکارڈ توڑ دیا
- نائب وزیراعظم کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، امریکا-ایران کشیدگی میں اضافے پر اظہارتشویش
- پاکستان کرکٹ ٹیم کو بڑا دھچکا، فیلڈنگ کوچ شین میک ڈرموٹ مستعفی
- گلگت بلتستان میں توانائی کا مسئلہ بڑا المیہ ہے، نومنتخب وزیراعلیٰ امجد حسین
- شان مسعود کو ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سے ہٹانے پر رمیز راجہ کا بڑا بیان سامنے آ گیا
- بلوچستان میں تاریخی انتظامی اصلاحات، 4 نئے ڈویژن اور 5 نئے اضلاع قائم
- کرسٹیانو رونالڈو کے مستقبل سے متعلق پرتگال کے نئے کوچ کا اہم بیان
- لاہور میں کالی گھٹاؤں کا راج، مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش سے موسم خوشگوار
- پاکستان اور جنوبی افریقا ویمن انڈر19 کرکٹ ٹیموں کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کی تیاریوں کا آغاز ہوگیا