ہائیکو (شِنہوا) پنجاب کے شہر سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی محض 21 سالہ اقصیٰ سجاد نے ہزاروں میل دور چین کے جنوبی صوبے ہائی نان میں اپنا دوسرا گھر تلاش کر لیا ہے۔ہائی نان میڈیکل یونیورسٹی میں کلینیکل میڈیسن کی دوسرے سال کی طالبہ اقصیٰ 2024 میں چین پہنچیں جو سفر محض بیرون ملک تعلیم کے تجربے کے طور پر شروع ہوا تھا وہ جلد ہی ایک گہرے ثقافتی سفر میں بدل گیا۔انہوں نے بتایا کہ “مجھے چینی ثقافت بہت پسند ہے۔ میں اسے بہت دلچسپ اور دلکش پاتی ہوں۔2 سال سے بھی کم عرصے میں اقصیٰ نے نہ صرف چین میں زندگی گزارنے کا ڈھنگ سیکھ لیا ہے بلکہ چینی زبان بولنا بھی سیکھ لی ہے۔ یہ ایک ایسی کامیابی ہے جس نے ملک کی روایات کو گہرائی سے سمجھنے کا دروازہ کھول دیا ہے۔موسیقی ان کا رابطہ بن گئی۔اقصیٰ کو ہمیشہ سے گانے کا شوق تھا، لیکن چین میں ان کے اس شوق نے ایک نئی جہت اختیار کر لی۔ وہ روایتی چینی موسیقی کی گرویدہ ہو گئیں، جس کی منفرد دھنوں اور جذباتی گہرائی نے انہیں اپنی طرف کھینچ لیا۔انہوں نے کہا کہ “میں خاص طور پر روایتی چینی موسیقی اور چین کے مختلف تہواروں کے بارے میں جاننے سے لطف اندوز ہوتی ہوں۔ میں چینی گانوں کی مشق بھی کرتی ہوں۔ مجھے چینی موسیقی کی دھن اور احساس بہت پسند ہے۔چینی موسیقی کے لئے ان کی بڑھتی ہوئی محبت نے بالآخر انہیں “چھیونگ اوپرا ” تک پہنچا دیا جو ہائی نان صوبے کا ایک روایتی لوک فن ہے جو مقامی لہجے میں پیش کیا جاتا ہے اور اسے قومی غیر مادی ثقافتی ورثہ تسلیم کیا گیا ہے۔کئی غیر ملکیوں کے لئے چھیونگ اوپرا سیکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ہائی نان کا مقامی لہجہ، جو معیاری چینی زبان سے مختلف ہے، ایک بڑا لسانی چیلنج پیش کرتا ہے۔لیکن اقصیٰ کے حوصلے پست نہ ہوئے۔انہوں نے وضاحت کی کہ ” چھیونگ اوپرا سیکھنے کے لئے زیادہ سننے، زیادہ مشق کرنے اور تلفظ و تال پر توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ شروع میں یہ مشکل تھا، لیکن جیسے جیسے میں نے اسے سیکھا، مجھے اس کی دھنیں اور پرفارمنس کا انداز بہت دلکش لگا۔جیسے جیسے ان کی سمجھ بوجھ گہری ہوئی، ان کی قدردانی میں بھی اضافہ ہوا۔ انہوں نے پرفارمنس کے پیچھے چھپی کہانیوں کو تلاش کرنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ اپنی گلوکاری میں اعتماد پیدا کیا۔اس فن کو وسیع تر سامعین تک پہنچانے کے عزم کے ساتھ اقصیٰ نے سٹیج پر قدم رکھنے کا فیصلہ کیا۔اس سال ہائی نان میں لی اور میاؤ نسلی گروہوں کے روایتی تہوار “سان یوئےسان” (قمری تیسرے مہینے کا تیسرا دن) کے دوران اقصیٰ نے لوک گیتوں کے مقابلے کے ابتدائی راؤنڈ میں حصہ لیا اور فائنل میں جگہ بنا لی جو ہائی نان کے شہر ڈونگ فانگ میں منعقد ہوا۔ 20 اپریل کی شام انہوں نے اسٹیج پر چھیونگ اوپرا کا ایک اقتباس پیش کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ “پاکستان اور چین کافی مماثلت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک میں متنوع نسلی گروہ اور بھرپور ثقافتیں ہیں۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان میں میرے خاندان اور دوست بھی میرے کام کے ذریعے چینی ثقافت کے بارے میں جان سکیں گے۔اس کےساتھ ہی اقصیٰ امید کرتی ہیں کہ ان کا یہ سفر دو طرفہ ثابت ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ “میں پاکستان کی متنوع ثقافت کو بھی چین میں متعارف کروانا چاہتی ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ چینی لوگ میرے ملک کو سمجھ سکیں۔”
Trending
- 10 روپے کے کرنسی نوٹ تبدیل کرانے کی آخری تاریخ کی افواہیں بےبنیاد ہیں، اسٹیٹ بنک
- یورو نوٹس کی رقم ملنے سے ملکی زر مبادلہ ذخائر بڑھ گئے
- زمبابوے کے بلے باز برینڈن ٹیلر نے سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ توڑ دیا
- سی پیک منصوبہ پاکستانی خواتین کو رکاوٹیں توڑنے اور نئی پیشہ ورانہ بلندیوں تک پہنچنے میں مدد کر رہا ہے
- چین پاکستان مشترکہ تربیتی مرکز پاکستان میں نئی توانائی کی گاڑیوں کے شعبے کے لیے ہنرمند افراد کی تیاری میں کوشاں
- چین کا یمن کے تمام فریقوں سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ
- امریکی فیڈرل ریزرو نے وفاقی فنڈز کی شرح ہدف کی حد میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر دیا
- چین سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر لانگ آرم دائرہ اختیار کی مخالفت کرتا ہے، چینی وزارت خارجہ
- چین میں “ثقافت اور سیاحت کی ترقی کے لیے 15 واں پانچ سالہ منصوبہ” جاری
- میسی کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک بار پھر ارجنٹینا کی ٹیم میں واپسی