News Views Events
Apna Watan

امریکہ چینی کمپنیوں کو فوجی وابستگی کا لیبل لگانے کی من مانی پالیسی سے باز آئے، چینی میڈیا

0

بیجنگ :امریکی محکمہ دفاع نے حال ہی میں اپنی نام نہاد "چینی ملٹری کمپنیوں کی فہرست” کو ایک بار پھر اپ ڈیٹ کرتے ہوئے علی بابا، بی وائی ڈی اور وو شی ایپ ٹیک سمیت متعدد ایسی چینی کمپنیوں کو اس میں شامل کر لیا ہے جو مکمل طور پر شہری شعبے سے وابستہ ہیں۔ فہرست میں شامل کمپنیوں کی تعداد اب 188 تک پہنچ گئی ہے اور اس کے دائرہ کار میں مسلسل توسیع کی جا رہی ہے، جس سے ان کمپنیوں کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کا ارادہ واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ چین کی وزارت تجارت نے اس حوالے سے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکہ کے غلط اقدامات کی سختی سے مخالفت کی اور کہا کہ چین مضبوط جوابی اقدامات کرے گا اور امریکہ کو اس کے تمام نتائج بھگتنا ہوں گے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ امریکہ کے اس اقدام نے "اختلافات کا سامنا کرنے، خطرات پر کنٹرول کرنے اور دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تعاون کی مجموعی صورتحال کا تحفظ کرنے” کے حوالے سے دونوں سربراہان مملکت کے درمیان حالیہ ملاقات میں طے پانے والے اتفاق رائے کی خلاف ورزی کی ہے۔ امریکہ نے اس اتفاقِ رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے وعدے سے انحراف کیا اور لیبل لگانے اور مصنوعی رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ذریعے محاذ آرائی کو ہوا دی۔ اس رویے نے نہ صرف بات چیت اور مشاورت کی کوششوں کو نقصان پہنچایا بلکہ بڑی مشکل سے قائم ہونے والے نسبتاً مستحکم دوطرفہ ماحول کو بھی متاثر کیا ہے۔باشعور افراد بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ یہ فہرست شروع سے آخر تک ایک سیاسی ڈرامے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ جن کمپنیوں کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، وہ بنیادی طور پر ای کامرس، نئی توانائی اور بائیو میڈیسن جیسی عوامی زندگی اور معاش سے وابستہ صنعتوں میں سرگرم عمل ہیں۔ ان کمپنیوں کا آپریشن مکمل طور پر مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق ہے اور ان کا عسکری میدان سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن امریکہ نے حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے محض اپنے مفروضوں کی بنیاد پر ان پر "فوجی وابستگی” کا لیبل چسپاں کر دیا ہے۔ آج "قومی سلامتی” امریکہ کے ہاتھ میں ایک ایسے عالمگیر بہانے کی شکل اختیار کر چکی ہے جسے وہ ہر موقع پر استعمال کرتا ہے۔ چاہے معاملہ عام تجارتی مسابقت کا ہو یا بین الاقوامی اقتصادی و تجارتی تعاون کا، اگر کوئی چیز اس کی خواہشات کے مطابق نہ ہو تو اسے فوراً سلامتی کا مسئلہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس طرح نہ صرف غیر ضروری خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے بلکہ بین الاقوامی تجارتی نظام اور ضوابط کو بھی شدید نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب یکطرفہ پسندی اور تجارتی تحفظ پسندی کا مظہر ہے۔ اس وقت عالمی اقتصادی بحالی مشکلات کا شکار ہے، اور مختلف ممالک کی صنعتی اور سپلائی چینز بھی باہم مربوط ہیں ، جس کا مطلب ہے کہ "یا تو سب اکٹھے خوشحال ہوں گے یا سب نقصان اٹھائیں گے۔” تاہم، امریکہ اپنی صنعتی اور تکنیکی برتریوں کو برقرار رکھنےاور چین کی ابھرتی ہوئی صنعتوں کی مسلسل ترقی پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ وہ ملکی قوانین کی بنیاد پر” لانگ آرم دائرہ اختیار” کو استعمال کرتے ہوئے مصنوعی طور پر عالمی تعاون کے سلسلے کو توڑ رہا ہے تاکہ چینی کاروباری اداروں کی ترقی میں رکاوٹ ڈالی جائے۔ "صرف خود ترقی کرنا اور دوسروں کو آگے نہ بڑھنے دینا” جیسی ذہنیت نہ صرف چینی کمپنیوں کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ متعدد امریکی کمپنیوں اور بیرونِ ملک شراکت داروں کے مفادات کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ یوں یہ طرزِ عمل حقیقتاً سب کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ناجائز دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے چین نے ہمیشہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن وہ اپنے بنیادی مفادات اور اصولی مؤقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس وقت فہرست میں شامل کئی چینی کمپنیوں نے قانونی ہتھیار اٹھا لیے ہیں اور قانونی چارہ جوئی کے ذریعے اپنے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کی تیاری کر رہے ہیں۔ اسی طرح چین کا "غیر ملکی پابندیوں کے خلاف قانون” اور دیگر متعلقہ قوانین مختلف اقسام کی غنڈہ گردی اور ناجائز دباؤ کا مؤثر جواب دینے کے لیے مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ چین کی وزارت تجارت کا بیان کسی وقتی جذباتی ردعمل کا اظہار نہیں بلکہ حقائق اور اصولوں پر مبنی ایک دوٹوک اعلان ہے کہ چینی کاروباری اداروں کے جائز حقوق و مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور بین الاقوامی منصفانہ تجارتی نظام میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔آج کی دنیا میں تعاون اور باہمی فائدہ ہی ترقی کا بنیادی دھارا ہیں، جبکہ سرد جنگ کی ذہنیت اور یکطرفہ دباؤ قابل عمل آپشن نہیں رہے۔ چین ہمیشہ بیرونی دنیا کے لیے اعلیٰ معیار کے کھلے پن کی پالیسی پر کاربند ہے اور دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنے اور ترقی کے مواقع کا اشتراک کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن وہ کبھی بھی امریکہ کے اس طرز عمل کو برداشت نہیں کرے گا کہ وہ سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے کو نظر انداز کرکے تجارتی غنڈہ گردی کرے۔ حقائق نے ثابت کیا ہے کہ کمپنیوں کو لیبل لگانے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے جیسے بالادستی کے طریقے نہ تو چینی کاروباری اداروں کی مستحکم ترقی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور نہ ہی چین کی ترقیاتی صلاحیت کو کمزور کر سکتے ہیں۔ ایسے اقدامات محض امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ کو ختم کریں گے اور عالمی ترقی کے عمومی رجحان کے خلاف جائیں گے۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کرے، اپنی غلط اور امتیازی پابندیوں کی فہرست کو فوری طور پر واپس لے، غیر معقول دباؤ ڈالنے کا سلسلہ بند کرے اور مساوی مکالمے، باہمی احترام اور مشترکہ مفاد پر مبنی درست راستے کی طرف واپس آئے۔ یہی وہ انتخاب ہے جو موجودہ عالمی رجحانات سے مطابقت رکھتا ہے اور دونوں فریقوں کے مفاد میں بھی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.