News Views Events
Apna Watan

پیٹرول، موبائل، خریداری، تنخواہ سمیت ہرچیز پر ٹیکس؛ کیا عام شہری پر مزید بوجھ  ڈالا جا رہا ہے؟

0

نئے وفاقی بجٹ سے قبل ایک بار پھر یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس آخر کون دیتا ہے اور ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے والے طاقتور طبقات پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جاتا۔

ملک بھر میں لاکھوں تنخواہ دار ملازمین اپنی ماہانہ آمدن سے براہِ راست انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں روزمرہ زندگی میں بھی مختلف بالواسطہ ٹیکسوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پیٹرول خریدنے سے لے کر موبائل فون استعمال کرنے اور اشیائے خورونوش کی خریداری تک، تقریباً ہر مرحلے پر عوام سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔

اسلام آباد کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں تدریس سے وابستہ خاتون کا کہنا ہے کہ ماہانہ تنخواہ سے ٹیکس کٹنے کے بعد بھی وہ پیٹرول، موبائل اور دیگر ضروری اشیا پر الگ سے ٹیکس ادا کرتی ہیں، جس سے محدود آمدن مزید سکڑ جاتی ہے۔

اسی طرح آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد بھی پیٹرولیم لیوی اور دیگر محصولات کو اپنی مالی مشکلات میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہیں۔

حکومت یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کا بجٹ تیار کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام اور مالی خسارے میں کمی کے اہداف کے باعث عوام میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ اضافی محصولات کا بوجھ ایک بار پھر انہی طبقات پر نہ ڈال دیا جائے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ٹیکس وصولیوں کا بڑا حصہ بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم آمدن اور زیادہ آمدن رکھنے والے افراد کئی معاملات میں یکساں شرح سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری اور کم آمدن والے طبقے کو پہنچتا ہے۔

مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے رواں مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1200 ارب روپے سے زائد رقم حاصل کی۔ چند برس قبل یہ آمدن اس کے مقابلے میں بہت کم تھی، تاہم لیوی کی شرح میں مسلسل اضافے کے باعث وصولیوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

ناقدین کے مطابق اس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور مجموعی مہنگائی پر پڑتا ہے۔

معاشی ماہرین کا مؤقف ہے کہ پاکستان کا تقریباً ہر شہری کسی نہ کسی شکل میں ٹیکس ادا کر رہا ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ مساوی طور پر تقسیم نہیں۔ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ دستاویزی ہونے کی وجہ سے آسان ہدف بن جاتا ہے جبکہ بااثر اور بڑے آمدنی والے بعض شعبے اب بھی مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہو سکے۔

ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے 605 ارب روپے سے زائد انکم ٹیکس ادا کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال بھی اس شعبے کی جانب سے دیے گئے ٹیکس کی مقدار کئی بڑے کاروباری شعبوں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے زیادہ رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والا زرعی شعبہ طویل عرصے سے بحث کا موضوع ہے۔

اگرچہ ملک کی بڑی آبادی اور معیشت کا قابلِ ذکر حصہ زراعت سے وابستہ ہے، تاہم اس شعبے سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن انتہائی محدود بتائی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بڑے زمینداروں اور بعض دیگر بااثر طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر محصولات کے نظام میں توازن پیدا کرنا مشکل ہوگا۔

اسی طرح ہول سیل اور ریٹیل کاروبار کے بڑے حصے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مکمل طور پر دستاویزی نظام میں شامل نہیں۔ حکومت متعدد بار تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کر چکی ہے، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

ماہرین کے مطابق ملک میں ہزاروں ایسے افراد بھی موجود ہیں جن کے بینک اکاؤنٹس میں بڑی رقوم موجود ہیں لیکن ان کی آمدن ٹیکس ریکارڈ میں ظاہر نہیں ہوتی۔ اگر جدید ڈیجیٹل نظام، مؤثر نگرانی اور آسان ٹیکس پالیسی اختیار کی جائے تو حکومت نئے ٹیکس لگائے بغیر بھی محصولات میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔

دریں اثنا کاروباری اور صنعتی حلقے بھی موجودہ ٹیکس ڈھانچے پر تحفظات رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بلند ٹیکس شرح، توانائی کی بڑھتی لاگت اور دیگر مالی بوجھ کے باعث سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ معیشت کو وسعت دینے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس کا دائرہ وسیع کیا جائے، نہ کہ بار بار انہی لوگوں پر بوجھ بڑھایا جائے جو پہلے سے نظام میں موجود ہیں۔

بجٹ سے قبل عام شہریوں، تنخواہ دار ملازمین اور کاروباری حلقوں کی ایک ہی بڑی توقع ہے کہ حکومت محصولات بڑھانے کے لیے نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دے اور ایسے شعبوں کو بھی دائرۂ کار میں لائے جو برسوں سے مؤثر ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔



پی این پی

Leave A Reply

Your email address will not be published.