بیجنگ :پانچویں گلوبل میڈیا انوویشن فورم کے انعقاد کے موقع پر، سی جی ٹی این کی جانب سے عالمی ناظرین کے درمیان ایک سروے شروع کیا، جس کے نتائج سے یہ ظاہر ہوا کہ جواب دہندگان کی اکثریت کے نزدیک میڈیا کی اصلاحات میں مصنوعی ذہانت کا کردار اہم ہوتا جا رہا ہے۔ سروے میں، 78.2 فیصد شرکاء نے رائے دی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں میڈیا کی رپورٹنگ کے طریقہ کار میں گہری تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جن میں ایڈیٹنگ، الگورتھم کی بنیاد پر مواد کی سفارش، شخصی تقسیم اور مواد کی خود کار تخلیق شامل ہیں۔سروے کے مطابق 71.7 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں تہذیبی ورثے کے تحفظ اور ثقافتی تبادلوں کے فروغ میں میڈیا کا کردار مزید بڑھ جائے گا۔خاص طور پر زبان و ثقافت کے درمیان بغیر رکاوٹ نشریات، ناپید ہوتی ہوئی زبانوں اور مقامی ثقافت کی حفاظت، ثقافتی ورثے کی ڈیجیٹلائزیشن اور ذہین بیانیے کے فروغ کے حوالے سے میڈیا سے زیادہ توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔ سروے میں شریک افراد نے معلومات کی درستگی، مصنوعی ذہانت کے باعث انسانی تخلیقی صلاحیتوں کے متاثر ہونے اور ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال سمیت دیگر ممکنہ خطرات کے حوالے سے تشویش کا بھی اظہار کیا۔
Trending
- وزیراعظم کی صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس جاری
- انسٹاگرام پوسٹ پر میٹا کا الرٹ، پولیس نے خودکشی کرنیوالے نوجوان کو بچالیا
- شہریوں کے لیے خوش خبری؛ حکومت کا بڑی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ
- نائٹ کلب تنازع میں الجھنے پر اسٹوکس کی کپتانی خطرے میں پڑگئی
- جھانوی کپور کے بولڈ کردار پر تنقید، جگاپتی بابو کی حمایت
- ملکی قرضوں کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے، ایک سال میں 7 ہزار ارب کا اضافہ
- چائنا میکسنگ: مغربی تصورات کو چیلنج کرتی ایک نئی تہذیبی لہر
- چین کی غیر ملکی تجارت کا تازہ ترین ریکارڈ ‘توقعات سے بڑھ کرہے، چینی میڈیا
- چینی صدر کا دورہ شمالی کوریا باہمی تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے، چینی عہدیدار
- میڈیا کی اصلاحات میں مصنوعی ذہانت کا کردار تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے، چینی میڈیا