بیجنگ :ورکرز پارٹی آف کوریا کے جنرل سیکرٹری اور شمالی کوریا کے ریاستی امور کمیشن کے چیئرمین کم جونگ اُن کی دعوت پر، سی پی سی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پھنگ نے شمالی کوریا کا سرکاری دورہ کیا۔ دورے کے اختتام پر،سی پی سی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبے کے سربراہ لیو ہائی شنگ نے صحافیوں کو اس دورے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔لیو ہائی شنگ نے کہا کہ یہ دورہ چین-شمالی کوریا تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔انہوں نے کہا کہ دورے کے دوران، شمالی کوریا کی جانب جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ کے استقبال کے لیے کئے گئے پرتپاک انتظامات، شمالی کوریا کے عوام کی جانب چینی عوام کے لیے مخلصانہ جذبات، اور دونوں ممالک کے درمیان روایتی دوستی کی مضبوط بنیاد کا بھرپور اظہار دیکھنے میں آیا۔لیو ہائی شنگ نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کا یہ دورہ دو طرفہ تعلقات کی ترقی کے لیے نئے امکانات پیدا کرے گا اور عالمی امن و ترقی کے لیے مثبت توانائی فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا نے اس دورے کوبھرپور سراہا ہے اور اسے ایک ایسے اہم موقع پر ہونے والا دورہ قرار دیا ہے جس کی اسٹریٹجک اہمیت اور اثرات دو طرفہ تعلقات کے دائرہ کار سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔یہ دورہ چین کے بین الاقوامی اثر و رسوخ اور ایک بڑی ذمہ دار طاقت کے کردار کی بھی عکاسی کرتا ہے۔لیو ہائی شنگ نے کہا کہ یہ دورہ مکمل طور پر کامیاب رہا، جس کے اہم نتائج تین پہلوؤں میں نمایاں طور پر سامنے آئے:پہلا، دونوں جماعتوں اور ممالک کے اعلیٰ رہنماؤں نے چین-شمالی کوریا تعلقات کی مستقبل کی ترقی کے لیے نئی سمت دکھائی۔
Trending
- وزیراعظم کی صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس جاری
- انسٹاگرام پوسٹ پر میٹا کا الرٹ، پولیس نے خودکشی کرنیوالے نوجوان کو بچالیا
- شہریوں کے لیے خوش خبری؛ حکومت کا بڑی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ
- نائٹ کلب تنازع میں الجھنے پر اسٹوکس کی کپتانی خطرے میں پڑگئی
- جھانوی کپور کے بولڈ کردار پر تنقید، جگاپتی بابو کی حمایت
- ملکی قرضوں کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے، ایک سال میں 7 ہزار ارب کا اضافہ
- چائنا میکسنگ: مغربی تصورات کو چیلنج کرتی ایک نئی تہذیبی لہر
- چین کی غیر ملکی تجارت کا تازہ ترین ریکارڈ ‘توقعات سے بڑھ کرہے، چینی میڈیا
- چینی صدر کا دورہ شمالی کوریا باہمی تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے، چینی عہدیدار
- میڈیا کی اصلاحات میں مصنوعی ذہانت کا کردار تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے، چینی میڈیا