بھارت کے سینئر فلم ساز انتقال کرگئے، فلمی دنیا سوگوار
بھارتی فلم انڈسٹری، خصوصاً تامل سنیما، اپنے ایک عہد ساز ہدایت کار اور اداکار سے محروم ہو گئی۔ دیہی زندگی کو حقیقت پسندانہ انداز میں پردۂ سیمیں پر پیش کرنے والے نامور فلم ساز بھارتی راجہ 84 برس کی عمر میں چنئی میں انتقال کرگئے۔
خاندانی ذرائع اور تامل فلم پروڈیوسرز کونسل کے مطابق بھارتی راجہ گزشتہ کچھ عرصے سے پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ بڑھتی عمر کے باعث پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے نتیجے میں بدھ کے روز انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی فلمی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
تامل فلم پروڈیوسرز کونسل نے اپنے تعزیتی بیان میں بھارتی راجہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنوبی بھارتی سنیما کو ایک نئی سمت دی اور فلم سازی کے انداز میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کروائیں۔
اداکارہ اور سیاستدان خوشبو سندر نے بھی سوشل میڈیا پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی راجہ کا انتقال تامل سنیما کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ان کے بقول بھارتی راجہ کی فلمیں آنے والی نسلوں کے لیے فلم سازی کا عملی درسگاہ ہیں اور وہ اپنے پیچھے ایک ناقابلِ فراموش فنّی ورثہ چھوڑ گئے ہیں۔
بھارتی راجہ کو تامل سنیما میں حقیقت پسندی اور دیہی معاشرت کو مرکزی دھارے میں لانے کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے طویل فلمی سفر کے دوران کئی یادگار فلمیں تخلیق کیں اور تامل فلم انڈسٹری کے بڑے ناموں رجنی کانت، کمل ہاسن اور شیواجی گنیشن جیسے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔
ہدایت کاری کے میدان میں ان کا آخری نمایاں کام 2023 میں ریلیز ہونے والی ویب سیریز ’’ماڈرن لو چنئی‘‘ کا ایک حصہ تھا، جسے شائقین اور ناقدین دونوں کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوئی۔
بھارتی راجہ کا انتقال نہ صرف تامل سنیما بلکہ پورے بھارتی فلمی منظرنامے کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ان کی فلمیں اور ان کا منفرد اسلوب آنے والے برسوں تک فلم سازوں اور ناظرین کو متاثر کرتا رہے گا۔
پی این پی