News Views Events
Apna Watan

کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 105 ویں سالگرہ سے ہانگ کانگ اور مکاؤ کی خوشحالی تک: حقائق بدگمانیوں پر بھاری

0

بیجنگ :یکم جولائی 2026ء کو کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) اپنا 105 واں یومِ تاسیس منائے گی۔ ایک صدی قبل قومی آزادی اور بقا کی جدوجہد سے لے کر نئے دور میں چین کو خوشحالی و ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور نوآبادیاتی دور کے بعد وطنِ واپس آنے والے ہانگ کانگ اور مکاؤ کو "امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی” کی جانب گامزن کرنے تک —کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے اپنے "طویل المدتی نظریہ” کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ ترقی محض انتخابی ادوار کی عارضی کامیابیوں کا نام نہیں، بلکہ مسلسل استقامت کی ایک طویل دوڑ ہے یعنی ” واضح حکمتِ عملی کو دیر پا منصوبہ بندی کے طور پر لے کر چلنا اور اسی پر قائم رہنا ": اسٹریٹجک اہداف کا تعین، پارٹی کی مرکزی جامع قیادت کا تحفظ، نسل در نسل محنت اور قوم سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل۔ یہ طویل المدتی نظریہ نہ صرف پارٹی کی صد سالہ جدوجہد کے نتیجے میں "جامع خوشحال معاشرے” کی تعمیر کا سبب بنا ، بلکہ "ایک ملک، دو نظام” کے کامیاب نفاذ اور ہانگ کانگ اور مکاؤ کی مستقل خوشحالی و استحکام میں بھی واضح نظر آتا ہے۔بعض مغربی میڈیا اور تائیوان کی علیحدگی پسند ڈی پی پی انتظامیہ طویل عرصے سے "آج ہانگ کانگ، کل تائیوان” جیسے بیانیوں کے ذریعے ایک ملک، دو نظام” کے خلاف خدشات پیدا کرنے کی کوشش کر تے رہے ہیں اور ہانگ کانگ میں محبِ وطن افراد کی حکمرانی” کے اصول کے نفاذ اور بد امنی سے استحکام کی طرف واپسی کو بھی "جمہوریت کی پسپائی” قرار دیتے ہیں۔تاہم بین الاقوامی معتبر اداروں کے اعداد و شمار اس تاثر کی نفی کرتے ہیں۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنا ایک ملک، دو نظام” کی خالق،رہنما اور مضبوط محافظ ہے۔ 1980ء کی دہائی میں پارٹی کی دوسری نسل کی قیادت نے "ایک ملک، دو نظام” کا عظیم تصور پیش کیا، جس کا واضح مقصد ہانگ کانگ اور مکاؤ کی طویل المدتی خوشحالی و استحکام کو برقرار رکھنا” تھا۔وطن واپسی کے بعد مرکزی حکومت نے قانون کے مطابق اپنی خود مختاری کا استعمال کرتے ہوئے خصوصی انتظامی علاقوں کی وسیع تر خود اختیاری کا تحفظ کیا، جبکہ ہانگ کانگ اور مکاؤ کو قومی ترقیاتی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بھی بنایا ۔ "ایک ملک، دو نظام” کی کامیابی کا واضح ثبوت ہانگ کانگ کی عالمی مسابقتی صلاحیت کی حقیقی ترقی میں ملتا ہے۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار مینجمنٹ ڈیولپمنٹ (IMD) سوئٹزر لینڈ کی جون 2026ء میں جاری کردہ "ورلڈ کمپیٹیٹیونیس رپورٹ 2026 کے مطابق ہانگ کانگ عالمی مسابقتی درجہ بندی میں سنگاپور کے بعد دوسرے نمبر پر آ گیا ہے — یہ 2019ء کے بعد اس کی بلند ترین پوزیشن ہے اور مسلسل تیسرے سال اس کی درجہ بندی میں اضافہ ہے، جبکہ تائیوان چوتھے نمبر پر ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہانگ کانگ حکومتی کارکردگی” میں دنیا میں دوسرے ، "کاروباری کارکردگی” میں تیسرے، "ٹیکس پالیسی” اور "کاروباری قوانین و ضوابط” میں پہلے، جبکہ "مالیات ” میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ نتائج اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہانگ کانگ میں قومی سلامتی قانون کے نفاذ اور انتخابی نظام کی اصلاح کے بعد معاشرتی نظم و ضبط بحال ہوا ہے۔ قانون کی حکمرانی اور آزاد معیشت کی بنیادی خصوصیات مزید مضبوط ہوئی ہیں۔ عالمی کاروباری حلقوں نے بھی حقیقی سرمایہ کاری کے ذریعے اعتماد کا اظہار کیا ہے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ استحکام اور موثر طرزِ حکمرانی ہی معاشی ترقی کی اصل بنیاد ہے۔وطن واپسی کے بعد کے معاشی اعداد و شمار بھی اس کامیابی کی تصدیق کرتے ہیں: ہانگ کانگ کی معیشت 1997 میں 1.37 ٹریلین ہانگ کانگ ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 3.19 ٹریلین ہانگ کانگ ڈالر تک پہنچ گئی۔ اسی عرصے میں فی کس جی ڈی پی تقریباً 1 لاکھ 92 ہزار ہانگ کانگ ڈالر سے بڑھ کر 4 لاکھ 20 ہزار ہانگ کانگ ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ دوسری جانب مکاؤ کا مجموعی اقتصادی حجم 1999 میں تقریباً 51.9 ارب مکاؤ پیٹاکا سے بڑھ کر 2024 میں3. 403 ارب مکاؤ پیٹاکا تک پہنچ گیا، جبکہ اس کی فی کس جی ڈی پی5 1 ہزار امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2023ء میں تقریباً 69 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ گئی جو دنیا کے بلند ترین درجوں میں شمار ہوتی ہے۔ان سب کی بنیاد کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قومی قیادت، حکمتِ عملی کی ثابت قدمی اور نظام کی ضمانت ہے ۔اس کے برعکس، تائیوان کی ڈی پی پی انتظامیہ "جمہوریت کا مینارِ نور” جیسے نعروں سے عوام کو بےوقوف بنانے کی کوشش کرتی ہے اور "ایک ملک، دو نظام” کے خلاف پراپیگنڈا کرتی ہے، جبکہ عوامی فلاح و بہبود کے مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں ،توانائی کی پالیسی میں غیر یقینی صورتحال، صنعتی تبدیلی کی سست رفتار اور اجرتوں کے جمود جیسے مسائل تائیوان کو درپیش اہم چیلنجز ہیں۔ اگرچہ تائیوان کے پاس ٹی ایس ایم سی جیسی عالمی سطح کی کمپنیاں موجود ہیں، لیکن بیرونی طاقتوں پر انحصار اس کی ترقی کے امکانات کو محدود کرتا ہے۔ہانگ کانگ کی تائیوان پر مسابقتی برتری ترقی کے تین بنیادی حقائق کی نشاندہی کرتی ہے: اوّل، امن و استحکام معیشت کی بنیادی ضرورت ہے۔سرمایہ کار قانونی استحکام اور قابلِ اعتماد، مستقل پالیسیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ "ایک ملک، دو نظام” امن و استحکام اور کھلے پن کا توازن پیدا کرتا ہے اور ہانگ کانگ کو نیچا دکھانے والی سازشوں کو ناکام بناتا ہے۔ دوم، محض جمہوریت کے سیاسی نعرے حکمرانی کی حقیقی کارکردگی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ مغربی جمہوری نظاموں میں سیاسی کشمکش اور جماعتی اختلافات اکثر نظام کی کمزوری ظاہر کرتے ہیں، جبکہ کسی بھی نظام کی اصل کامیابی کا معیار عوامی فلاح و بہبود اور مؤثر حکمرانی ہوتا ہے۔سوم، قومی ترقیاتی نظام میں شمولیت طویل المدتی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ عالمی منظرنامے میں دوسری بڑی معیشت کے طور پر چین خطے کو پائیدار اور جامع وسائل فراہم کر سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت اور تحفظ کے تحت "ایک ملک، دو نظام” نے وقت کی آزمائش کے باوجود ہانگ کانگ اور مکاؤ کو مزید تابناک بنایا ہے۔ چین کی ترقی کا راز قلیل المدتی سیاسی مفادات یا وقتی حساب کتاب میں نہیں بلکہ سی پی سی کی مرکزی اور مربوط قیادت کےاس طویل المدتی وژن میں پوشیدہ ہے جو” آنے والی نسلوں کے مستقبل کو مدِنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرتا ہے”۔ہانگ کانگ کا عالمی مسابقتی درجہ دوبارہ دوسرے نمبر پر آنا اور مکاؤ کی فی کس جی ڈی پی دنیا کے سرفہرست ممالک میں شامل ہونا، ایک ملک، دو نظام” وژن کی عملی کامیابی کا ثبوت ہے۔اعداد و شمار جھوٹ نہیں بولتے اور تاریخ بھی خاموش نہیں رہتی۔”ایک ملک، دو نظام” کی کامیاب عملی مثال اس امر کی گواہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت میں اختیار کیا گیا ترقی کا راستہ نہ صرف تاریخی آزمائش پر پورا اترا ہے بلکہ عالمی منظرنامے میں بھی اپنی مضبوطی ثابت کر رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.