بجلی کے بل نے شہری کا راز فاش کر دیا، فلیٹ میں 300 اژدہے پالنے پر گرفتار
بیجنگ(پی این پی)چین میں ایک بے روزگار شخص کو اس وقت جیل بھیج دیا گیا جب اس کے فلیٹ کے غیر معمولی بجلی کے بلوں نے ایک بڑے غیر قانونی جانوروں کے کاروبار سے پردہ اٹھا دیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے چھاپے کے دوران فلیٹ سے 300 سے زائد اژدہے (پائتھن)برآمد کر لیے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقی چین کے صوبے ژی جیانگ کے شہر تائی ژو میں واقع ایک اپارٹمنٹ پر پولیس نے کارروائی کی، جہاں سے 309 اژدہے برآمد ہوئے۔
یہ اژدہے پلاسٹک کے ڈبوں میں بند تھے جو کمروں میں ایک کے اوپر ایک رکھے گئے تھے۔تحقیقات کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک بزرگ شہری کو مقامی پہاڑی کے دامن میں ایک بڑا اور غیر معمولی اژدہا ملا چونکہ اژدہے اس علاقے میں قدرتی طور پر نہیں پائے جاتے اور چینی قوانین کے تحت محفوظ جانوروں میں شمار ہوتے ہیں، اس لیے حکام کو شبہ ہوا کہ قریبی علاقے میں کوئی غیر قانونی بریڈنگ سینٹر کام کر رہا ہے۔تحقیقات میں اس وقت اہم پیش رفت ہوئی جب ایک رینگنے والے جانوروں کے ماہر نے پولیس کو بتایا کہ اژدہوں کی بقا کے لیے مسلسل گرم اور مرطوب ماحول درکار ہوتا ہے، اس مقصد کے لیے درجہ حرارت کو 20 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے، جس کے باعث بجلی کا استعمال غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے۔
اس اطلاع کے بعد پولیس نے مقامی رہائشیوں کے بجلی کے بلوں کا جائزہ لیا اور جلد ہی گوو نامی شخص کو مرکزی مشتبہ شخص قرار دے دیا۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ گوو غیر شادی شدہ اور بے روزگار تھا، اس نے اپنے تمام ذاتی سامان کو فلیٹ کے ایک ہی کمرے تک محدود کر رکھا تھا، جبکہ باقی 2 بیڈ رومز اور ڈرائنگ روم مکمل طور پر سانپوں کی افزائش کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔مزید تفتیش میں انکشاف ہوا کہ گوو اور اس کے ایک ساتھی نے 2014 میں 4 اژدہے خریدے تھے اور بعد ازاں ان کی افزائش کر کے سینکڑوں اژدہے تیار کیے تھے، جنہیں آن لائن فروخت کیا جاتا تھا۔مقامی عدالت نے گوو اور اس کے 2 ساتھیوں کو قید کی سزا سنا دی ۔
پی این پی
Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.