بیجنگ (شِنہوا)چین گزشتہ چند برسوں میں اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق، انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے عالمی مرکز کے طور پر ابھرا ہےجس کی وجہ سے دنیا بھر کے طلبا اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے چین کا رخ کررہے ہیں۔ پاکستان سے بھی ہر سال ہزاروں طلبا چین کی معروف یو نیورسٹیز میں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ انہی باصلاحیت پاکستانی طلبا میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے نوجوانطا لبعلم عبدالرحمان نصراللہ بھی شامل ہیں جو چین کی "تیانجن یونیورسٹی” میں کیمیکل انجینئرنگ کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق سے وابستہ ہیں۔عبدالرحمان نے بتایا کہ وہ تین سال قبل ماسٹرز کی تعلیم حاصل کرنے چین آئے تھے۔ ان کے مطابق انجینئرنگ کے شعبے سے وابستگی کے باعث وہ ہمیشہ چین کی سائنسی ترقی، انجینئرنگ کے میدان میں کامیابیوں اور جدید ٹیکنالوجی سے متاثر رہے۔ انہوں نے کہا کہ چین آج دنیا میں تحقیق، جدت اور سائنسی ترقی کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے اسی لیے انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم کے لیے چین کا انتخاب کیا۔انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ تین برس سے چین میں مقیم ہیں اور اس دوران انہیں نہ صرف اعلیٰ معیار کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا بلکہ جدید سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی تعلیمی ماحول سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔اپنے آبائی شہر فیصل آباد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالرحمان نے کہا کہ فیصل آباد پاکستان کا صنعتی اور ٹیکسٹائل مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ شہر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اپنی ٹیکسٹائل انڈسٹری، کاروباری سرگرمیوں اور محنتی لوگوں کی وجہ سے پورے پاکستان میں نمایاں مقام کا حامل ہے۔عبدالرحمان نے کہا کہ چین میں رہتے ہوئے انہوں نے چینی تہذیب، نظم و ضبط، محنت، وقت کی پابندی اور سماجی ہم آہنگی کو بہت قریب سے دیکھا جس نے ان کی شخصیت پر مثبت اثرات مرتب کیے۔ ان کے مطابق چین کی ترقی صرف جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کی محنت، نظم و ضبط اور قومی وژن بھی اس کامیابی کا اہم سبب ہے۔اپنے تحقیقی شعبے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کی تحقیق بنیادی طور پر کیمیکل انجینئرنگ کے شعبے سے تعلق رکھتی ہے، اس میں خصوصاً الیکٹروکیٹالسس، واٹر اسپلٹنگ، قابل تجدید توانائی اور جدید فنکشنل میٹریلز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ ایسی جدید ٹیکنالوجیز پر تحقیق کی جائے جو مستقبل میں صاف اور ماحول دوست توانائی کے حصول میں مددگار ثابت ہوں۔انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت توانائی اور ماحولیاتی مسائل کا سامنا کررہی ہے، اسی لیے وہ خاص طور پر “کلین ہائیڈروجن پروڈکشن” اور جدید کیٹالسٹ ڈویلپمنٹ پر تحقیق کررہے ہیں تاکہ مستقبل میں ماحول دوست اور پائیدار توانائی کے حل فراہم کیے جاسکیں۔چینی تعلیمی نظام کے بارے میں اظہارخیال کرتے ہوئے عبدالرحمان نے کہا کہ چین میں تحقیق، عملی تربیت اور جدت کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق چینی یونیورسٹیز طلبا کو جدید لیبارٹریز، عالمی معیار کے تحقیقی آلات، انڈسٹری کے ساتھ روابط اور بین الاقوامی ماحول فراہم کرتی ہیں جو طلبا کی علمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کی یونیورسٹیاں نہ صرف تعلیمی طور پر بہترین ماحول فراہم کرتی ہیں بلکہ بین الاقوامی طلبا کو اسکالرشپس، تحقیقی فنڈنگ، پیشہ ورانہ رہنمائی اور بین الاقوامی ایکسپوژر بھی دیتی ہیں۔ ان کے مطابق چین میں ہزاروں غیر ملکی طلبا مکمل اسکالرشپس پر تعلیم حاصل کررہے۔عبدالرحمان نے اپنی تعلیمی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ تیانجن یونیورسٹی میں ماسٹرز کی تعلیم کے دوران انہیں تعلیمی میدان میں شاندار کارکردگی پر”گولڈ میڈل”سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں”بیسٹ ایمبیسیڈر ایوارڈ” بھی دیا گیا جو بین الاقوامی طلبا کی سرگرمیوں اور یونیورسٹی کی نمائندگی میں ان کی فعال شرکت کے اعتراف میں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ چین نہ صرف تعلیم بلکہ ثقافتی تبادلے، بین الاقوامی روابط اور ذاتی ترقی کے لیے بھی ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا مختلف ممالک کے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں جس سے ان کی عالمی سوچ اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں مزید بہتر ہوتی ہیں۔عبدالرحمان کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہوگااور دونوں ممالک کے نوجوان اس تعاون سے بے شمار فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں وہ اپنی تحقیق اور تجربے کو پاکستان کی ترقی، توانائی کے شعبے، سائنسی تحقیق اور نوجوانوں کی تربیت کے لیے استعمال کریں گے تاکہ پاکستان بھی جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مزید ترقی کرسکے۔
Trending
- پاک۔چین کہانیاں|پاکستانی طا لبعلم چین کی جدید ٹیکنا لوجی سے متاثر
- فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کی کمزور حریف گھانا کیخلاف خراب کارکردگی، ’کالا جادو‘ اثر کر گیا؟
- آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ: 36 سال بعد کیوی بولر نے پہلی پوزیشن حاصل کرلی
- شاداب خان کا وائیٹیلٹی بلاسٹ کیلیے لنکاشائر سے معاہدہ
- ویبھاؤ سوریا ونشی کے دورہ انگلینڈ میں بھارتی ٹیم کے ساتھ رہنے پر پابندی
- فیفا ورلڈکپ کے دوران جعلساز فٹبال شائقین کو کیسے نشانہ بنارہے ہیں؟
- قومی اسمبلی؛ مختلف وزارتوں، ڈویژنوں اور محکموں کے 482ارب روپے کی ضمنی گرانٹس منظور
- پی سی بی کا کھلاڑیوں کو تربیت کیلیے امریکا بھیجنے کا منصوبہ، مائیک ہیسن نے تصدیق کر دی
- کراچی سے براستہ دبئی چین جانے والے مسافر سے بھاری مالیت کی غیر ملکی کرنسی برآمد
- ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کراچی کے تین زونز کے انتخابات کیلیے حتمی امیدوار سامنے آگئے