News Views Events
Apna Watan

کراچی: ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے حافظ قرآن 5 نوجوان زخمی

0

کلفٹن ڈرائیونگ لائسنس برانچ کے قریب رکشا پر فائرنگ سے 5 افراد زخمی ہوگئے ، ایک زخمی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ، زخمی ہونے والے پانچوں حافظ قرآن ہیں ، زخمی ہونے والے افراد پنجاب سے قافلے کے ہمراہ دعوت اسلامی کے مرکز فیضان مدینہ آئے تھے اور زیارت کے لیے عبدللہ شاہ غازی بابا کے مزار جا رہے تھے، ترجمان کراچی پولیس کے مطابق واقعہ ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت کا شاخسانہ ہے۔

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق زخمی ہونے والوں کی شناخت 21 سالہ حافظ علی ولد محمد سلیم ، 20 سالہ حافظ سماما ولد اویس ، 19 سالہ حادفظ مبشر ، 24 سالہ حافظ محمد طلحہٰ ولد غلام مصطفیٰ اور 32 سالہ حافظ محسن رضا ولد سجاد احمد کے ناموں سے کی گئی۔

واقعہ ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر پیش آیا ، زخمی ہونے والے حافظ محسن رضا نے جناح اسپتال میں ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تمام زخمی ہونے والے افراد پنجاب کے علاقے گجرانوالہ کے رہائشی ہیں اور دو روز قبل قافلے کے ہمراہ کراچی میں دعوت اسلامی کے مرکز فیضان مدینہ آئے تھے۔

پیر کی شب اپنے 8 ساتھیوں کے ہمراہ ایک رکشا میں عبداللہ شاہ غازی بابا کے مزار جانے کے لیے نکلے تھے، ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہ تو کراچی کے حالات کے بارے میں کچھ معلوم تھا اور نہ ہی راستوں کے بارے میں معلومات تھی تاہم رکشا والے سے انہوں نے آنے جانے کا طے کر لیا تھا ، رکشا جب کلفٹن پہنچا تو کچھ مسلحہ افراد نے اسے روکنے کی کوشش کی جو بظاہر قانون نافذ کرنے والے محکمے سے لگ رہے تھے تاہم رکشا والے نے روکنے کے بجائے اسپیڈ بڑھا دی جس پر ان مسلحہ افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے وہ زخمی ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ رکشا کے ڈرائیور سے انہوں نے کہا تھا کہ رکشا روک لو ہم ان لوگوں سے بات چیت کرتے ہیں چیکنگ کروا لیتے ہیں لیکن وہ کراچی کے حالات کے بارے میں جانتا تھا اس لیے اس نے رکشا نہیں روکا۔

انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والوں نے ان کے تمام ساتھیوں کے موبائل لے لیے جبکہ ایک موبائل چھوڑ دیا تاکہ رابطہ کر کے اپنے لوگوں کے زخمی ہونے کے بارے میں بتا سکیں ، مسلحہ افراد رکشا اس کے ڈرائیور اور ان کے تین ساتھیوں کو بھی اپنے ہمراہ لے گئے۔

ایس ایچ او بوٹ بیسن انسپکٹر ریاض واقعے کے فوری بعد پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ کلفٹن ڈرائیورنگ لائسنس برانچ پہنچ گئے تاہم اس نہ تو فائرنگ کرنے والوں کا کچھ معلوم ہوا اور نہ وہ مقام ملا جہاں فائرنگ کی گئی تھی حالانکہ وہاں چاروں طرف بنگلے تھے اور ان کے چوکیدار اور سیکیورٹی گارڈ بھی موجود تھے تاہم پولیس کے پہنچنے پر کوئی بھی باہر نہیں آیا جبکہ ڈرائیونگ لائسنس برآنچ کے باہر بیٹھے افراد نے بتایا کہ فائرنگ کی آواز شدید تھی ایسا لگ رہا تھا کہ بڑے اسلحہ سے فائرنگ کی گئی ہے۔

ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ وہ دن کی روشنی میں سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر کے تحقیقات کا دائرہ کار بڑھائیں گے۔



پی این پی

Leave A Reply

Your email address will not be published.