News Views Events
Apna Watan

جاپان کے “نئے عسکریت پسند رجحان” کی واپسی کو مضبوطی سے روکنا ضروری ، چینی میڈیا

0

ٹوکیو:رواں سال 15 اگست کو جاپان کی جانب سے دوسری جنگ عظیم میں غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے اعلان کو 81 سال مکمل ہوئے۔ اسی روز جاپانی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی نے یاسوکونی شرائن کے لیے نذرانہ پیش کیا، جہاں 14 اعلیٰ درجے کے جنگی مجرموں کی یاد میں رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ جاپان کے وزیرِ دفاع کویزومی شنجیرو سمیت کابینہ کے بعض ارکان اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے بھی یاسوکونی شرائن کا دورہ کیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی شکست اور ہتھیار ڈالنے کے دن جاپانی دائیں بازو کے سیاست دانوں کی جانب سے ایک بار پھر جنگی مجرموں کی یادگار پر حاضری تاریخی انصاف کی توہین، تہذیبی اصولوں کو چیلنج اور جنگ کے بعد قائم بین الاقوامی نظام کے لیے اشتعال انگیزی ہے، جس سے چین سمیت ایشیائی متاثرہ ممالک کے عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ چین نے جاپان سے باضابطہ احتجاج اور سخت مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ جارحیت کے جرائم پر معافی مانگنے سے انکار، دوبارہ عسکریت کی رفتار تیز کرنا اور جوہری ہتھیار رکھنے کے حوالے سے متکبرانہ بیانات دینا، جاپانی حکومت کے یہ منفی اقدامات اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک تنقید اور مذمت کا باعث بن رہے ہیں۔ جاپانی ذرائع ابلاغ نے بھی واضح الفاظ میں کہا کہ “ایسی وزیرِاعظم کی بدولت جس میں ذرا بھی پشیمانی نظر نہیں آتی، رواں سال 15 اگست جنگ کے بعد سب سے زیادہ کشیدہ دن ثابت ہو سکتا ہے۔” تجزیہ کاروں کے مطابق جاپان کے “نئے عسکریت پسند رجحان” کی اس خطرناک واپسی پر عالمی برادری کو انتہائی چوکس رہنا اور اسے مضبوطی سے روکنا چاہیے۔اکتیس سال قبل 15 اگست کو اس وقت کے جاپانی وزیرِاعظم مری یاما تومی ایچی نے اعتراف کیا تھا کہ جاپان نے ماضی میں غلط قومی پالیسی اختیار کی اور جنگ کی راہ پر گامزن ہوا، جبکہ انہوں نے تاریخ پر گہری نظرثانی اور اس سے سبق سیکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔آج جاپانی قیادت اس کے برعکس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور ملک کو ایک بار پھر خطرناک راستے پر لے جا رہی ہے۔ جاپان کے “نئے عسکریت پسند رجحان” کی اشتعال انگیز سرگرمیوں کے خلاف عالمی برادری کو عملی اقدامات کے ذریعے مضبوطی سے روک تھام کرنی چاہیے، جنگ کے بعد قائم بین الاقوامی نظام کا پختہ دفاع کرنا چاہیے اور تاریخ کے المیے کو دوبارہ رونما ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دینی چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.