علی امین گنڈاپور کا پارلیمانی گروپ اجلاس کے دوران اپنی ہی حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید
پشاور میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پارلیمانی گروپ اجلاس کے دوران اپنی ہی حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے ارکانِ اسمبلی کی مراعات بڑھانے کے قانون پر برہمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ آئے روز ایسے اقدامات ہو رہے ہیں جن کی وجہ سے حکومت تنقید کی زد میں آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے ہی وزراء اور ارکانِ اسمبلی حلقوں میں غیر معیاری ترقیاتی کاموں کی شکایات کر رہے ہیں، ہر جگہ ناقص کام کی شکایات ہیں، ارکانِ اسمبلی کام رکوا رہے ہیں، بھرتیوں اور تبادلوں پر بھی ثبوتوں کے ساتھ اعتراضات سامنے آ رہے ہیں اور بیڈ گورننس کی تنقید حکومت پر ہو رہی ہے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جہاں ادائیگی ہونی چاہیے وہاں نہیں کی جاتی، جبکہ جہاں کام نہیں ہوا وہاں پیشگی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت میں ایسے احکامات کون جاری کر رہا ہے اور منظور ہونے والے قوانین کس کی خواہش پر پاس کیے جا رہے ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں معلوم ہوا کہ وزراء اور ارکانِ اسمبلی کی تنخواہیں بڑھا دی گئی ہیں، حالانکہ انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ ایسا نہ کیا جائے کیونکہ اس پر عوامی تنقید ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ تنخواہیں کم ہیں، تاہم بانی چیئرمین نے تنخواہیں بڑھانے سے منع کیا تھا، اس لیے وہ اس کا حصہ نہیں بنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی غربت اور بے روزگاری کو دیکھتے ہوئے ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے، اگر کسی کی تنخواہ بڑھانے کی خواہش ہے تو اس کا نام سامنے لایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے پارٹی لیڈر کے وژن پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔
سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں آپریشنز ہو رہے ہیں اور مزید بھی ہوں گے، آپریشنز صوبائی حکومت کے فنڈز سے ہو رہے ہیں جبکہ عوام کو حکومت سے جان، مال اور عزت کے تحفظ کی امید ہے۔
پی این پی