بیجنگ :چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِین جیئن نے یومیہ پریس کانفرنس میں عالمی سپلائی چینز کے مسئلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں عالمی سپلائی چینز ایک ایسی مشترکہ مفادات کی زنجیر بن چکی ہیں جس میں تمام فریق ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، جہاں ایک کی ترقی سب کے لیے فائدہ مند اور ایک کا نقصان سب کو متاثر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی طریقوں سے سپلائی چینز کو منقطع کرنے، تحفظ پسند رکاوٹیں کھڑی کرنے اور سپلائی چینز کی زبردستی ازسرنو تشکیل کی کوششیں نہ صرف بھاری معاشی اخراجات کا باعث بنیں گی بلکہ مارکیٹ کے اصولوں اور کاروباری اداروں کے آزادانہ انتخاب کے بھی خلاف ہیں۔ اس کے نتیجے میں تمام فریق زیادہ قیمت ادا کریں گے اور کم فوائد حاصل کریں گے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ چین اعلیٰ معیار کے کھلے پن کی پالیسی کو مسلسل وسعت دیتا رہے گا اور اپنی وسیع مارکیٹ، مکمل صنعتی نظام اور دیگر نمایاں برتریوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے دنیا کو مستحکم انداز میں اعلیٰ معیار کی مصنوعات اور تعاون کے مزید مواقع فراہم کرتا رہے گا۔
Trending
- ایندھن کی قیمتوں کا روزانہ تعین کا فیصلہ، پٹرول پمپ مالکان نے مخالفت کردی
- حکومت کی کوشش ہے ڈیجیٹل میڈیا کی وجہ سے کوئی ملازم بے روزگار نہ ہو، وزیر اطلاعات
- فیفا ورلڈکپ: 39 سالہ لیونل میسی اب بھی ارجنٹینا کی سب سے بڑی طاقت
- سلمان خان کے رویے سے متعلق شہناز گل کا بڑا انکشاف
- چینی صدر کا شنگھائی کا دورہ، شہری تجدید اور عوامی فلاح پر زور
- پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے : وزیر اعظم شہباز شریف
- آستانہ میں “شی جن پھنگ: دی گورننس آف چائنا” کی پانچویں جلد کی تعارفی تقریب کا انعقاد
- مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہر طالب علم کے لیے انفرادی تعلیم ممکن ہو سکتی ہے، معروف امریکی کالم نگار کیون کیلی
- بلوچستان؛ ٹماٹروں سے لدے مزدا ٹرک سے 11کروڑ مالیت کی کرسٹل آئس برآمد
- مصنوعی طور پر سپلائی چینز کو منقطع کرنے سے تمام فریقوں کے اخراجات بڑھیں گے،چینی وزارت خارجہ