News Views Events
Apna Watan

سب کے لیے فائدہ مند ہونا ہی مصنوعی ذہانت کا حقیقی مقصد ہے، چینی میڈیا

0

بیجنگ :مصنوعی ذہانت بے مثال رفتار سے لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل کر رہی ہے۔ چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کے لیے کیے گئے ایک سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جواب دہندگان عالمی برادری سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ باہمی تعاون پر مبنی حکمرانی کو مضبوط بنائے، تاکہ جدت طرازی کے عمل کے دوران ممکنہ خطرات کا مؤثر انداز میں تدارک کیا جا سکے۔سروے کے مطابق 91 فیصد جواب دہندگان نے خدشہ ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی سائبر حملوں اور ڈیٹا لیک جیسے سیکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔ جبکہ 92.6 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ غلط معلومات اور ڈیپ فیک مواد سماجی اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں۔مزید برآں، 82.6 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے عمل میں مزید ترقی پذیر ممالک اور “گلوبل ساؤتھ” کے ممالک کی اصول سازی میں شرکت ضروری ہے۔ 83.7 فیصد افراد نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے طریقہ کار کے قیام کی اپیل کی، تاکہ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال اور بے قابو ہونے کو روکا جا سکے۔سروے میں شامل 90.9 فیصد جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ تکنیکی پابندیوں کے بجائے کھلے تعاون پر عمل کرنا اے آئی کی محفوظ، صحت مند اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے زیادہ سازگار ہے۔یہ سروے سی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی پلیٹ فارمز پر جاری کیا گیا، جس میں 24 گھنٹوں کے اندر دنیا بھر سے 6,503 نیٹیزنز نے حصہ لیا اور اپنی آراء کا اظہار کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.