جاپان میں تقریباً 25 ہزار افراد کی فوجی توسیع کے خلاف احتجاجی ریلی
جاپان امن پسند راستے سے تیزی سے دور ہوتا جا رہا ہے، رپورٹ
ٹوکیو:تقریباً 25 ہزار جاپانی شہریوں نے جاپانی ڈائٹ کے سامنے ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی۔ مظاہرین نے سانائے تاکائیچی حکومت کی جانب سے امن پسند آئین میں ترمیم، ہتھیاروں کی برآمدات سے متعلق پابندیوں میں نرمی اور تین غیر جوہری اصولوں میں تبدیلی کی کوششوں کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جاپان جنگ کے بعد اختیار کیے گئے امن پسند راستے سے تیزی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی آئینی ترامیم کا مقصد جاپان کو ایک ایسے ملک میں تبدیل کرنا ہے جو جنگ میں حصہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہو اور جہاں فوجی توسیع کو عام شہریوں کی زندگیوں پر ترجیح دی جائے۔مظاہرین نے کہا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 9 میں ترمیم نہیں چاہتے، کیونکہ موجودہ حالات میں عام لوگوں کی زندگی پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپان غیر معمولی رفتار سے فوجی توسیع کی جانب بڑھ رہا ہے، اس لیے حکومت کی فوجی توسیع اور آئینی ترمیم کی پالیسیوں کو روکنا ضروری ہے، بصورت دیگراس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تاریخ کا سامنا کرے، آئینی ترمیم اور فوجی توسیع کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے سے گریز کرے۔