بیجنگ : چین کی وزارتِ تجارت نے نام نہاد “زائد پیداواری صلاحیت” کے معاملے پر چین کا مؤقف جاری کیا، جس میں اس معاملے سے متعلق حقائق واضح کرتے ہوئے نام نہاد ” زائد پیداواری صلاحیت”کے حوالے سے چین کی پالیسی اور مؤقف کی وضاحت کی گئی ہے۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ چین کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ پیداواری صلاحیت کے مسئلے کو جامع، معروضی اور منصفانہ انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس ضمن میں کھلے تعاون، باہمی فائدے اور مشترکہ کامیابی کے اصولوں کو اپناتے ہوئے اختلافات اور تنازعات کو مشترکہ طور پر حل کیا جانا ضروری ہے۔تحفظ پسندی کا راستہ اختیار کرنے سے صرف عالمی اقتصادی و تجارتی نظام میں خلل پیدا ہوگا، جبکہ عالمی صنعتی و سپلائی چین کے تحفظ اور استحکام، صنعتی تعاون کی صحت مند اور منظم ترقی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایسے اقدامات عالمی اقتصادی ترقی کے لیے طویل المدتی خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔
Trending
- چین برکس تعاون کو مستحکم مستقبل کی جانب لے جائے گا، بین الاقوامی شخصیات
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن