News Views Events
Apna Watan

عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے چین کا مربوط نقطۂ نظر

0

بیجنگ :جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں منعقدہ یونیسکو کے 48ویں عالمی ثقافتی ورثہ اجلاس میں چین کی جانب سے پیش کیے گئے “جنگ دہ زن کے روایتی چینی مٹی کے برتنوں کی صنعت کے آثار” کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں باضابطہ طور پر شامل کر لیا گیا اور یہ  چین کا 61واں عالمی ثقافتی ورثہ بن گیا۔اس اندراج نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں چینی مٹی (پورسلین) سے متعلق ورثے کی موجودگی کا خلا بھی پُر کر دیا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس مرتبہ عالمی ثقافتی ورثے میں کسی ایک برتن یا کسی ایک تاریخی عمارت کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ چینی مٹی کے برتنوں کی تیاری سے وابستہ ایک حقیقی اور وسیع پیداواری نظام کو عالمی ورثہ تسلیم کیا گیا۔ ماضی پر نظر ڈالیں تو جنگ دہ زن میں تحفظ کا تصور زیادہ تر اس حد تک محدود تھا کہ قیمتی چینی مٹی کے برتن عجائب گھروں میں محفوظ کر دیے جائیں یا شاہی بھٹیوں کے آثار کی مرمت کر دی جائے۔ تاہم اس مرتبہ عالمی ثقافتی ورثے کے لیے پیش کی گئی درخواست کسی ایک برتن یا کسی ایک قدیم بھٹی پر مشتمل نہیں تھی بلکہ اس میں چینی مٹی کے برتنوں کی صنعت سے متعلق ایک مکمل صنعتی سلسلہ شامل کیا گیا۔ اس میں پورسلین کا مرکزی پیداواری علاقہ، حو تھیان کی قدیم بھٹی کے آثار، گاؤلن کی چینی مٹی کی کان، چھانگ لِنگ کے چینی پتھر کی کانیں اور جیاؤ تھان بھٹی کے ایندھن فراہم کرنے والے علاقے سمیت پانچ بڑے علاقے، 15 بنیادی عناصر اور 45 تاریخی مقامات شامل ہیں، جو خام مٹی سے لے کر تیار شدہ برتن تک کے پورے پیداواری عمل کی نمائندگی کرتے ہیں۔چینی مٹی کے خام مال کے حصول، بھٹیوں کے لیے لکڑی کی ترسیل، ورکشاپس کی تقسیم اور تیار شدہ مصنوعات کی فروخت کے راستے، سب کو اس نظام کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح صرف برتنوں کے تحفظ سے آگے بڑھ کر پورے “چینی مٹی کے برتنوں کے ثقافتی ماحولیاتی نظام” کے تحفظ کا تصور سامنے آیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جنگ دہ زن انسانی ثقافتی ورثے کے تحفظ کا نظریہ ایک نئی سمت اختیار کر رہا ہے۔ اب صرف انفرادی تاریخی اشیا نہیں بلکہ ایک دوسرے سے مربوط پورے نظام کے تحفظ کو اہمیت دی جا رہی ہے۔قدرتی ورثے کے تحفظ کے میدان میں بھی اسی نوعیت کی گہری تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بوسان میں منعقدہ اسی کانفرنس میں،  چین کے صوبہ لیاؤننگ کے شہر دالیان کے چھانگ شان جزائر میں واقع موسمی پرندوں کے مسکن کو حدود میں معمولی ردوبدل کے بعد “چین کے بحر زرد کے موسمی پرندوں کا مسکن” کے عالمی قدرتی ورثہ میں شامل کر لیا گیا۔یہ عالمی قدرتی ورثہ لیاؤننگ، حہ بئی ، شان ڈونگ، جیانگ سو اور شنگھائی پر مشتمل پانچ صوبائی و شہری علاقوں میں پھیلا ہوا ہے اور مشرقی ایشیا۔آسٹریلیشیا موسمی پرندوں کے عالمی نقل مکانی کوریڈور کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں حیاتیاتی تنوع انتہائی زیادہ اور نایاب و معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار انواع کی تعداد بھی نمایاں ہے۔جولائی 2019 میں پہلے مرحلے کے تحت صوبہ جیانگ سو کے یان چھنگ ویٹ لینڈز، جن میں نایاب پرندوں اور دافنگ ہرنوں کے محفوظ علاقے شامل تھے، عالمی قدرتی ورثہ قرار دیے گئے۔ جولائی 2024 میں دوسرے مرحلے کے دوران شنگھائی کے چھونگ منگ دونگ تھان، شان ڈونگ کے دریائے زرد کے دہانے اور لیاؤننگ کے سنیک آئی لینڈ سمیت مزید پانچ مساکن کو شامل کیا گیا، جبکہ 27 جولائی 2026 کو دالیان کے چھانگ شان جزائر میں واقع موسمی پرندوں کے مسکن کو بھی حدود کی تبدیلیوں کے ذریعے اسی عالمی قدرتی ورثے کا حصہ بنا دیا گیا۔چین میں قدرتی ورثے کے تحفظ کا تصور بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوا ہے۔ ابتدا میں توجہ صرف کریسٹڈ آئیبس اور جائنٹ پانڈا جیسے انفرادی نایاب جانوروں کے تحفظ پر مرکوز تھی، لیکن بعد ازاں قومی پارکوں پر مشتمل قدرتی محفوظ علاقوں کا ایک جامع نظام تشکیل دیا گیا، جس میں پہاڑ، دریا، جنگلات، زرعی زمینیں، جھیلیں، سبزہ زار اور صحرائی علاقے سب کو ایک مربوط ماحولیاتی نظام کے طور پر تحفظ فراہم کیا گیا۔اسی طرح بعض شہروں میں چھوٹے قدرتی محفوظ علاقے قائم کیے گئے، جہاں درخت، پودے، پھول اور پرندوں کو ایک مربوط شہری ماحولیاتی نظام کے طور پر محفوظ رکھا جاتا ہے۔جو شہر کے “مائیکرو ایکو سسٹم” کو احتیاط سے محفوظ رکھتے ہیں۔ثقافتی ورثے کے میدان میں بھی تحفظ کا دائرہ صرف چینی مٹی کے برتنوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس صنعت کے تاریخی ورثے اور اس سے وابستہ ہنرمندوں تک وسیع ہو گیا ہے۔ اسی طرح قدرتی ماحول کے تحفظ میں صرف پرندوں کو بچانے کے بجائے ان کے مساکن اور نقل مکانی کے راستوں کو بھی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ثقافتی اور قدرتی ورثے کے تحفظ کا تصور اب انفرادی عناصر کی حفاظت سے آگے بڑھ کر مکمل ماحولیاتی اور ثقافتی نظام کے تحفظ کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔یہ جامع اور مربوط تصور مشرقی فلسفے کے اس نظریے سے جڑا ہوا ہے جس میں انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق تہذیب کو اس کے قدرتی ماحول سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی تحفظ کو صرف عجائب گھروں کی چار دیواری تک محدود رکھا جا سکتا ہے۔  یہ تصور روایت اور جدت، تحفظ اور ترقی، مقامی اور بین الاقوامی تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنے پر زور دیتا ہے۔ جس طرح چینی مٹی، بھٹیوں کا ایندھن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اسی طرح پہاڑ، دریا، جنگلات، کھیت، جھیلیں، سبزہ زار اور صحرا بھی ایک مکمل ماحولیاتی اکائی تشکیل دیتے ہیں۔ یہی سوچ معاشی ترقی میں “سرسبز پہاڑ اور شفاف پانی انمول اثاثہ ہیں” کے تصور میں جلوہ گر ہوتی ہے، جبکہ بین الاقوامی تبادلوں میں مختلف تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی، باہمی احترام اور ایک دوسرے سے سیکھنے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔یہ تصور ہمیں ایک اہم سبق بھی دیتا ہے کہ صرف ایک خطے یا ایک ملک کی ترقی کافی نہیں، بلکہ مشترکہ ترقی ہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔ مجموعی نظام کے تحفظ کے ذریعے ہی مجموعی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور باہمی تعاون ہی پائیدار خوشحالی کی بنیاد بنتا ہے۔ یہی تصور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے  کی تعمیر کا بنیادی مفہوم بھی ہے اور تہذیبوں کی بقا، ترقی اور خوشحالی کا ایک اعلیٰ اصول بھی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.