جنوبی ایشیا کے دیہی علاقوں میں، گھروں کی دیواروں پر سوکھے ہوئے گوبر کے اُپلے ایک نمایاں دیہی منظر پیش کرتے ہیں۔ مقامی لوگ روایتی طریقوں سے گوبر کو ایندھن اور مچھروں کو دور رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہوئے وسائل کا بنیادی درجے پر دوبارہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ صدیوں سے جاری طریقہ اگرچہ فضلے کو دوبارہ استعمال میں لاتا ہے، لیکن اس کی افادیت محدود اور طریقہ کار نسبتاً غیر مؤثر ہے، جس کے باعث گندگی، آلودگی اور وسائل کے ضیاع جیسے مسائل مکمل طور پر ختم نہیں ہو پاتے۔تاہم ،چین کے مغرب میں واقع ننگ شیا حوئی خوداختیار علاقےکی شی جی کاؤنٹی میں، ایک جدید “گائےکا گوبر بینک” کا ماڈل متعارف کرایا گیا ہے جس نے مویشیوں کے فضلے کی قدر و قیمت کے پورے تصور کو بدل دیا ہے اور دیہی علاقوں میں ماحولیاتی تحفظ اور سبز آمدنی میں اضافے کے لیے ایک قابلِ تقلید راستہ پیش کر رہا ہے۔
شی جی کاؤنٹی مویشیوں کی پرورش کا ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں کی مستقل آبادی 4 لاکھ سے بھی کم ہے، لیکن مویشیوں کی تعداد 6 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ اس تیزی سے پھلتے پھولتے مویشیوں کے کاروبار نے دیہی معیشت کو تو فروغ دیا ہے، لیکن ساتھ ہی بڑے پیمانے پر ماحولیاتی دباؤ بھی پیدا کیا ہے۔ ماضی میں بڑی مقدار میں گوبر دیہات کے داخلی راستوں یا کھلے مقامات پر پھینک دیا جاتا تھا، جس سے شدید بدبو پھیلتی، مچھر پیدا ہوتے اور بارش کے دنوں میں فضلہ پانی کے ساتھ بہہ کر مٹی اور آبی وسائل کو آلودہ کرتا تھا۔ یہ دیہی نظم و نسق کے لیے ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بن چکا تھا۔ حالیہ برسوں میں، شی جی نے روایتی غیر منظم اور منتشر طریقہ کار کو تبدیل کرتے ہوئے مارکیٹ اور منظم نظام پر مبنی” گائے کا گوبر بینک” قائم کیا۔ اس کے ذریعے ماضی کا آلودگی کا ذریعہ اب ذخیرہ، تبادلہ اور فروخت کیے جانے والے سبز اثاثے میں تبدیل ہو گیا ہے۔
گائے کا گوبر بینک” کا بنیادی تصور سادہ لیکن انتہائی بصیرت پر مبنی ہے ، جو معیاری اور بڑے پیمانے پر فضلے کے وسائل کو فعال کرتا ہے ۔ مقامی سطح پر گوبر جمع کرنے، اسے مرکزی طور پر ذخیرہ کرنے، پیشہ ورانہ طریقے سے پروسیس کرنے اور پھر دو طرفہ ترسیل کا ایک مکمل نظام قائم کیا گیا ہے۔ کسانوں کو گوبر خود ٹھکانے لگانے کی ضرورت نہیں، وہ اسے “گوبر بینک” کے حوالے کر دیتے ہیں اور اس کے بدلے دوہری آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ فی مکعب میٹر گوبر 40 یوان کے حساب سے براہِ راست فروخت کرکے رقم حاصل کر سکتے ہیں یا اسے “جمع” کرا کے بعد میں ہر دو مکعب میٹر تازہ گوبر کے بدلے ایک مکعب میٹر نامیاتی کھاد حاصل کر سکتے ہیں، جسے وہ اپنی فصلوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ عام کسانوں کے لیے اس پورے عمل میں لاگت اور محنت دونوں کم ہیں۔ یوں نہ صرف گوبر ٹھکانے لگانے کا مسئلہ حل ہوتا ہے بلکہ کیمیائی کھاد خریدنے کے اخراجات میں بھی کمی آتی ہے۔
اس نظام کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں ماحولیاتی فوائد کے ساتھ معیار کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی گئی ہے، جس سے گوبر کے روایتی استعمال سے وابستہ متعدد مسائل حل ہوئے ہیں۔ جدید طریقہ کار کے تحت گوبر کو 50 سے 70 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر خمیر کیا جاتا ہے، پھر دس سے زائد دن تک گلنے سڑنے کے عمل سے گزارا جاتا ہے اور اس کے بعد 30 سے زائد دن تک دوبارہ پختہ کیا جاتا ہے، جس سے اسے مکمل طور پر بے ضرر بنایا جاتا ہے۔مقامی طور پر، یہاں ایک جدید طریقہ اپنایا گیا ہے جس میں جنگلی آڑو کی چھال کو شامل کیا جاتا ہے، اس سے خام مال میں کاربن اور نائٹروجن کے تناسب کو متوازن کرنے، بدبو ختم کرنے اور ثانوی آلودگی روکنے میں مدد ملتی ہے، یوں پورا عمل ماحول دوست اور قابو میں رہتا ہے۔ ہر سال یہ خاص “بینک” ایک لاکھ مکعب میٹر گوبر کو پروسیس کرکے 30 ہزار ٹن اعلیٰ معیار کی تجارتی نامیاتی کھاد تیار کرتا ہے، جس سے فضلے کو قیمتی وسیلے میں تبدیل کرنے اور صاف ستھرے گردش پذیر نظام کو عملی شکل ملتی ہے۔
گائے کا گوبر بینک” نے ماحول، معیشت اور صنعت، تینوں شعبوں میں فوائد کا ایسا نظام قائم کیا ہے جو پائیدار ترقی کی مضبوط صلاحیت ظاہر کرتا ہے۔ ماحولیاتی اعتبار سے اس نے دیہی علاقوں میں گوبر کو بے ترتیب طور پر پھینکنے اور جمع کرنے کے دیرینہ مسئلے پر قابو پایا، رہائشی ماحول کو بہتر بنایا اور آلودگی میں کمی لائی۔ نامیاتی کھاد کے ذریعے کیمیائی کھاد کے ایک حصے کا متبادل فراہم ہونے سے زمین کی بہتری اور زرعی اراضی کے معیار میں بھی اضافہ ہوا۔ معاشی اعتبار سے اس کے فوائد ہزاروں گھرانوں تک پہنچے ہیں۔ کسان جب نامیاتی کھاد حاصل کرتے ہیں تو فی مو زمین پر کیمیائی کھاد کے اخراجات میں تقریباً 20 سے 40 یوان کی بچت کر سکتے ہیں۔ اعلیٰ معیار کی نامیاتی کھاد گانسو اور شان شی سمیت اردگرد کے علاقوں میں بھی فروخت کی جاتی ہے، جس سے سالانہ فروخت کی آمدنی 40 لاکھ یوان تک پہنچتی ہے اور دیہی صنعت کی مکمل زنجیر قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔صنعتی اعتبار سے مقامی سطح پر”افزائش —فضلہ— نامیاتی کھاد — کاشت — دوبارہ مویشی پالنا “پر مشتمل ایک مکمل ماحولیاتی چکر تشکیل پا گیا ہے۔ مویشیوں کی افزائش اور فصلوں کی کاشت کے دونوں شعبے ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں اور دیہی صنعت کی سبز ترقی میں موجود خلا کو پُر کرتے ہیں۔ یوں مویشی سے گوبر، گوبر سے کھاد، کھاد سے زمین اور زمین سے دوبارہ مویشی تک ایک مکمل مویشی — گوبر — کھاد — زمین — مویشی”کا چکر چل پڑا ہے۔شی جی کاؤنٹی کا یہ تجربہ جنوبی ایشیا کے ترقی پذیر ممالک کے دیہی علاقوں کے لیے بھی اہم سبق رکھتا ہے۔پہلا ، فضلہ دراصل “فضول” نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات صرف غلط جگہ پر موجود ایک وسیلہ ہوتا ہے۔ جب گوبر کو سائنسی طریقے سے پروسیس کرکے دوبارہ قدر و قیمت دی جاتی ہے اور اسے دوبارہ گردش میں لایا جاتا ہے تو وہ ماحولیاتی لاگت کے بجائے پیداواری وسیلہ بن جاتا ہے۔دوسرا ، گردشی زراعت خسارے کا سودا نہیں ہے ۔ شی جی کے تجربے نے واضح کیا ہے کہ سبز اور گردش پذیر معیشت آمدنی بھی پیدا کر سکتی ہے۔ اس کاروبار سے سالانہ 40 لاکھ یوان کی آمدنی ہوتی ہے، کسان کیمیائی کھاد کے اخراجات بچاتے ہیں، حکومت پر آلودگی سے نمٹنے کا دباؤ کم ہوتا ہے اور مٹی کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ یوں ایک ہی نظام میں متعدد فریق فائدہ اٹھاتے ہیں۔تیسرا، یہ ماڈل قابلِ تقلید ہے۔ شی جی کا “گائے کا گوبر بینک” بنیادی طور پر وسائل کی بحالی اور لین دین کا ایک نظام ہے، جسے دیگر زرعی فضلے، مثلاً فصلوں کی باقیات اور مویشیوں کے فضلے پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ ان ترقی پذیر ممالک کے لیے جو اسی طرح زرعی آلودگی کے چیلنج سے دوچار ہیں، کم لاگت اور زیادہ فوائد پر مبنی یہ گردش پذیر معاشی ماڈل قابلِ مطالعہ اور قابلِ استفادہ ہے۔
جنوبی ایشیا کے دیہی علاقوں کی دیواروں پر لگے گوبر کے اُپلوں سے لے کر چین کے مغربی علاقے کے “گوبر بینک” تک، گوبر کے انسانی استعمال کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ شکلیں بدلتی رہی ہیں، لیکن بنیادی اصول وہی رہا ہے: قدرت کا احترام اور وسائل کا مکمل استعمال۔
صدر شی جن پھنگ نے حال ہی میں منعقدہ 18ویں برکس سمٹ میں زور دیا کہ “برکس ممالک کو مختلف تہذیبوں کی ہم آہنگ بقائے باہمی اور رواداری کا ایسا گلستان بننا چاہیے جہاں تمام تہذیبیں ایک دوسرے کے ساتھ رہیں، پوری انسانیت کی مشترکہ اقدار کو فروغ دیا جائے اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے، باہمی تبادلے اور ہم آہنگ بقائے باہمی کو آگے بڑھایا جائے۔”اگر اس بات کو دیہی ماحولیاتی نظم و نسق کے تناظر میں دیکھا جائے، تو اس کا ایک بہت ہی حقیقی اور ٹھوس پہلو سامنے آتا ہے: ترقی پذیر ممالک کو “روایتی اور غیر مؤثر طریقوں” اور “مغربی ممالک کے مہنگے ماحولیاتی تحفظ” میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ وہ اپنی تہذیبی اور مقامی ضروریات کی بنیاد پر نئے حل پیدا کر سکتے ہیں اور باہمی تجربات سے سیکھتے ہوئے بہتر زندگی کے نئے راستے تلاش کر سکتے ہیں۔شی جی کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ زرعی تہذیب کی “فضلے کو قیمتی وسیلے میں بدلنے” کی دانش جدید زراعت اور مارکیٹ کے نظام کے ساتھ کامیابی سے ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔یہ گلوبل ساؤتھ ممالک میں غربت میں کمی، آلودگی پر قابو پانے اور کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقلی کی ضروریات سے بھی ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔ بظاہر چھوٹا اور عام سا معاملہ بھی بڑے دور کی بات کر سکتا ہے، اور بظاہر معمولی گوبر بھی سبز ترقی کی ایک مؤثر کہانی بیان کر سکتا ہے۔
———————–