News Views Events
Apna Watan

ترک محقق کا حضرت نوحؑ کی کشتی ڈھونڈنے کا دعویٰ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حضرت نوحؑ کی کشتی سے متعلق ایک نئی تحقیق نے ایک بار پھر دنیا بھر میں دلچسپی پیدا کردی ہے۔

مذہبی روایات کے مطابق اس کشتی نے عظیم طوفان کے دوران حضرت نوحؑ، انسانوں اور دیگر جانداروں کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔روایتی طور پر کہا جاتا ہے کہ کشتی مشرقی ترکی کے علاقے میں واقع تندروک پہاڑ کے قریب دروپینار نامی مقام پر آ کر ٹھہری تھی۔ اس مقام کی زمینی ساخت دور سے ایک بڑی کشتی جیسی دکھائی دیتی ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق یہ تقریباً 515 فٹ طویل ساخت قدرتی زمینی تشکیل بھی ہوسکتی ہے۔تاہم حالیہ تحقیق میں ترک نژاد امریکی عسکری سائنسدان ڈاکٹر خسرو بختیار کی جانب سے تیار کردہ خصوصی ریڈار ٹیکنالوجی استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ نظام برقی مقناطیسی لہروں کے ذریعے زمین کے اندر موجود ساختوں کا جائزہ لینے میں مدد دیتا ہے۔تحقیق کے دوران زیرِ زمین ایک ایسی ساخت کی نشاندہی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے جو شکل و صورت میں کشتی سے مشابہت رکھتی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد محققین کی جانب سے مزید تحقیق اور ممکنہ کھدائی کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے تاکہ زیرِ زمین موجود ساخت کی حقیقت کا تعین کیا جاسکے۔

اس دعوے نے مذہبی حلقوں اور اس موضوع میں دلچسپی رکھنے والے افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ ڈاکٹر خسرو بختیار اور ان کی ٹیم مزید شواہد حاصل کرنے کے لیے مذکورہ مقام پر تحقیق آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔قرآنِ مجید میں حضرت نوحؑ کی کشتی کے ٹھہرنے کی جگہ کو ’’الجودی‘‘ کہا گیا ہے، تاہم اس مقام کی قطعی جغرافیائی شناخت پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مقامی طور پر تندروک پہاڑ کی ایک چوٹی کو بھی ’’الجودی‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔واضح رہے کہ زیرِ زمین کشتی نما ساخت کی موجودگی اور اسے حضرت نوحؑ کی کشتی قرار دینے کا دعویٰ ابھی قطعی طور پر ثابت نہیں ہوا، اس کے لیے مزید سائنسی تحقیق اور آثار کی جانچ ضروری ہے۔

پی این پی

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.