اسلام آباد: شنگھائی تعاون تنظیم کے 26ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر یکم ستمبر کو آئی آر ایس میں چائنا میڈیا گروپ اور انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے اشتراک سے “ایس سی او کے 25 سال: شنگھائی سپرٹ اور اسلام آباد سے نئے سفر کا آغاز” کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا۔ جس میں مقررین نے ایس سی او کے پچیس سالہ سفر، شنگھائی سپرٹ، علاقائی امن و سلامتی، اقتصادی تعاون اور مشترکہ ترقی کے امکانات پر اظہارِ خیال کیا اور پاکستان کی آئندہ ایس سی او صدارت کو علاقائی تعاون کے فروغ اور تنظیم کے مستقبل کی سمت متعین کرنے کے حوالے سے اہم موقع قرار دیا۔سیمینار کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ایس سی او دنیا کی تقریباً چالیس فیصد آبادی کی نمائندگی کرنے والی اہم تنظیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی قیادت کی سوچ عالمی امن و استحکام اور مشترکہ ترقی کی عکاس ہے، جبکہ شنگھائی سپرٹ اختلافات کے حل کے لیے مکالمے، باہمی احترام اور اتفاقِ رائے کا درس دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا یہ وژن موجودہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔مہمانِ اعزاز چینی سفارت خانے کی قونصلر ژوانگ شین یان نے کہا کہ ایس سی او کی پچیسویں سالگرہ اور پاکستان کی جانب سے تنظیم کی صدارت سنبھالنا اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے صدر شی جن پھنگ کی قیادت اور شنگھائی سپرٹ کو ایس سی او کی کامیابی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے باہمی اعتماد، سیکیورٹی، اقتصادی تعاون اور علاقائی رابطوں کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے چین کی جانب سے پاکستان کی ایس سی او صدارت کے دوران بھرپور حمایت کا عزم ظاہر کرتے ہوئے سی پیک کو علاقائی ترقی اور عوامی خوشحالی کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے گلوبل گورننس انیشی ایٹو اور حقیقی کثیرالجہتی کے فروغ پر بھی زور دیا۔پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے چین کی کئی دہائیوں پر محیط دوراندیشی اور مشترکہ ترقی کے وژن کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایس سی او اسی طویل المدت سوچ کا عملی اظہار ہے، جس نے خطے میں تعاون، رابطوں اور مشترکہ خوشحالی کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ فوری مفادات کے بجائے طویل المدت علاقائی استحکام اور مشترکہ ترقی کو ترجیح دی ہے، اور ایس سی او میں اس وژن کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔ انہوں نے ایس سی او کو بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں باہمی تعاون، مشترکہ سلامتی اور ترقی کے لیے ایک اہم اور مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا۔آئی آر ایس کے صدر سفارت کار جوہر سلیم نے کہا کہ ایس سی او گزشتہ پچیس برسوں کے دوران علاقائی تعاون کا ایک مؤثر اور کثیرالجہتی پلیٹ فارم بن کر ابھری ہے، جہاں رکن ممالک سیاسی، اقتصادی، سلامتی، رابطوں اور دیگر شعبوں میں مشترکہ مفادات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کی بڑھتی ہوئی اہمیت اس امر کا ثبوت ہے کہ مکالمے، باہمی احترام اور تعاون کے ذریعے خطے میں مشترکہ ترقی اور پائیدار استحکام کی بنیاد مضبوط کی جا سکتی ہے۔پاکستان کی سینئر سفارت کار نائلہ چوہان نے پاکستان کی آئندہ سال کی ایس سی او صدارت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے علاقائی تعاون کو عملی شکل دینے اور ایس سی او کے ایجنڈے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اپنی صدارت کے دوران انفراسٹرکچر اور علاقائی رابطوں کے فروغ، سی پیک کو ایس سی او ممالک کے وسیع تر اقتصادی و علاقائی تعاون سے مزید ہم آہنگ کرنے اور رکن ممالک کے درمیان عملی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر توجہ دے گا۔ دفاعی و سیاسی امور کے ماہر ڈاکٹر محمد خان نے ایس سی او کے گزشتہ پچیس سالہ سفر کو تنظیم کی بنیاد اور ارتقا کا اہم دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ 25 سال اس کے مستقبل کی سمت متعین کرنے کے حوالے سے کہیں زیادہ اہم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورتحال میں ایس سی او کو اپنے تعاون کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے معاشی روابط، سیکیورٹی، ٹیکنالوجی، علاقائی رابطوں اور مشترکہ ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ موجودہ دور میں سیکیورٹی کا تصور روایتی دفاعی معاملات تک محدود نہیں رہا، بلکہ فوڈ سیکیورٹی، سائبر سیکیورٹی، توانائی اور دیگر ابھرتے ہوئے چیلنجز بھی علاقائی سلامتی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کو ان نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے، مشترکہ حکمتِ عملی اور عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا، کیونکہ جامع سیکیورٹی ہی خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کی ضمانت بن سکتی ہے۔بین الاقوامی امور کے ماہر محمد رمضان علی نے کہا کہ ایس سی او کسی ایک ملک کی اجارہ داری کے بجائے باہمی تعاون، مساوی شراکت داری اور مستحکم خوشحالی کی ضامن تنظیم ہے، جس کا مستقبل مشترکہ مفادات اور اتفاقِ رائے کے اصولوں سے وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا مستقبل باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور سب کے لیے یکساں ترقی کے اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔سیمینار میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ شنگھائی سپرٹ باہمی اعتماد، مساوات، باہمی فائدے، مکالمے اور تعاون کی بنیادی قوت ہے۔ مقررین نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اپنی آئندہ صدارت کے دوران علاقائی امن، اقتصادی تعاون، انفراسٹرکچر، رابطوں اور عوامی سطح کے روابط کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔
Trending
- ایس سی او کے 25 سال: شنگھائی سپرٹ اور اسلام آباد سے نئے سفر کا آغاز
- چینی صدرکی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت اور کرغزستان کا سرکاری دورہ کامیابی سے مکمل
- اگست میں مہنگائی بڑھنے کی سالانہ شرح 11.15 فیصد پر پہنچ گئی، ادارہ شماریات
- یو ایس اوپن کی تاریخ کا بڑا اپ سیٹ شکست، نوواک جوکووچ پہلے راؤنڈ میں ہی باہر
- وہ ملک جہاں ہر بچے کی پیدائش پر 17 سال کی عمر تک ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد دیے جائیں گے
- پاکستان کا ٹیسٹ ریکارڈ 1987 کے بعد پہلی بار منفی ہوگیا
- چینی صدر کی اہلیہ کی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شامل سربراہان کی بیگمات کی اجتماعی سرگرمی میں شرکت
- چین مساوی اور منظم عالمی نظام کی مثبت وکالت کرتا ہے، چینی صدر
- جو روٹ کو خراب فارم کا احساس، مشکل مرحلے سے نکلنے کے لیے پرامید
- پائیدار معاشی ترقی؛ پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے نئے مواقع