News Views Events
Apna Watan

گلوبل گورننس انیشی ایٹو کو پیش ہوئے ایک سال اور بدلتی ہوئی دنیا

0

اعتصام الحق

یہ یکم ستمبر 2025 کی بات ہے جب چین کے شہر تھیان جن میں شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ہو رہا تھا۔دنیا کی نظریں اس اہم اجلاس اور اس میں ہونے والی تقاریر اور اعلامیے پر تھی ۔چین میزبان ملک تھا ۔چین کے صدر شی جن پھنگ نے اپنے اہم خطاب میں جہاں اس تنظیم کی صلاحیتوں اور اس کے مستقبل کے حوالے سے کئی باتیں کیں وہیں ایک نیا انیشی ایٹو بھی پیش کیا ۔پاک بھارت جنگ اور ایران کے خلاف 11 روزہ امریکی حملے ہو چکے تھے ،امن کی آواز کمزور تھی ، تنازعات اپنی سرحدوں سے باہر پھیل رہے تھے، عالمی معیشت دباؤ میں تھی اور مختلف ممالک کے درمیان اعتماد کا بحران گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ایسے وقت میں چینی صدر شی جن پھنگ نے دنیا کے سامنے یہ تصور رکھا ۔گلوبل گورننس انیشی ایٹو۔یہ محض ایک نیا سفارتی نعرہ نہیں تھا، بلکہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش تھی کہ آخر بدلتی ہوئی دنیا کو چلانے کے لیے عالمی نظام کیسا ہونا چاہیے؟ایک سال گزرنے کے بعد جب ہم دنیا کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو اس سوال کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

دنیا نے اس دوران جنگوں اور مسلح تنازعات کے مناظر دیکھے۔ کہیں عام شہری عدم تحفظ کا شکار ہوئے، کہیں بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا، اور کہیں جنگ کے اثرات نے پوری نسلوں کے مستقبل کو متاثر کیا۔ دوسری جانب تجارتی کشیدگی، پابندیاں، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی مسابقت نے عالمی معیشت کے لیے نئے چیلنج پیدا کیے۔

یہ سب حالات ہمیں ایک بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ آج کے عالمی مسائل کسی ایک ملک کی سرحدوں کے اندر محدود نہیں رہے۔موسمیاتی تبدیلی ہو، وبائیں ہوں، خوراک اور توانائی کا تحفظ ہو، مصنوعی ذہانت ہو یا عالمی اقتصادی عدم مساوات ،ان مسائل کا حل کسی ایک ملک کے پاس نہیں۔لیکن اگر مسائل عالمی ہیں تو کیا ان کے حل کا طریقہ بھی عالمی نہیں ہونا چاہیے؟

اس بارے میں چین کا جواب ہے کہ ہاں ہونا چاہیے۔گلوبل گورننس انیشی ایٹو کے تصور کے مطابق، دنیا کو ایسا نظام درکار ہے جس میں تمام ممالک، خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے، ترقی یافتہ ہوں یا ترقی پذیر، عالمی معاملات میں مساوی طور پر شریک ہوں۔اسی لیے اس اقدام کے بنیادی اصولوں میں خودمختار مساوات، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، کثیرالجہتی، عوام کو مرکز میں رکھنا اور عملی اقدامات شامل ہیں۔یہ اصول دراصل ایک ایسے عالمی نظام کی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں طاقت کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے، اختلافات کو تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور عالمی فیصلوں میں زیادہ سے زیادہ ممالک کی آواز شامل ہو۔

یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے کہ اس اقدام میں اقوام متحدہ کا کردار کیا ہوگا ؟
چینی مؤقف کے مطابق موجودہ عالمی نظام کو ختم کرکے کوئی نیا نظام کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اقوام متحدہ کو مرکز میں رکھتے ہوئے موجودہ عالمی حکمرانی کو مزید منصفانہ، مؤثر اور نمائندہ بنانا ضروری ہے۔اقوام متحدہ کا قیام ہی اس تصور کے ساتھ ہوا تھا کہ دنیا جنگوں کے بجائے تعاون کا راستہ اختیار کرے۔ اس کے چارٹر میں خودمختاری، مساوات، امن اور بین الاقوامی تعاون کے اصول موجود ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج کی دنیا ان اصولوں پر پوری طرح عمل کر رہی ہے؟

اگر طاقتور ممالک اپنی مرضی کو بین الاقوامی اصولوں پر ترجیح دیں، اگر یکطرفہ پابندیاں اور دباؤ عالمی تعاون کی جگہ لے لیں، اگر تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کے بجائے طاقت کو زیادہ اہمیت دی جائے، تو عالمی حکمرانی کا نظام لازماً کمزور ہوگا۔یہی وہ خلا ہے جسے چین گلوبل گورننس انیشی ایٹو کے ذریعے پُر کرنے کی ضرورت سمجھتا ہے۔

اس تصور میں ایک اور لفظ خاص اہمیت رکھتا ہے انسان۔چینی نقطۂ نظر کے مطابق عالمی حکمرانی کا مقصد محض ریاستوں کے درمیان تعلقات کو منظم کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا حتمی مقصد لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔

ایک عام انسان کے لیے عالمی حکمرانی کا مطلب شاید سفارتی اصطلاحات نہ ہوں۔ اس کے لیے اس کا مطلب ہے کہ وہ جنگ سے محفوظ رہے، اسے روزگار ملے، اسے خوراک اور توانائی دستیاب ہو، اس کے بچے بہتر تعلیم حاصل کرسکیں اور آنے والی نسلیں صاف ماحول میں زندگی گزار سکیں۔اسی لیے عوام کو مرکز میں رکھنا اس تصور کا بنیادی حصہ ہے۔

ایک سال میں دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ جب عالمی تعاون کمزور پڑتا ہے تو بحران زیادہ پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ ایک تنازع دوسرے بحران کو جنم دے سکتا ہے، اقتصادی کشیدگی سیاسی فاصلے بڑھا سکتی ہے اور باہمی اعتماد کی کمی عالمی مسائل کے حل کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔

ایسے ماحول میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو کی اصل اہمیت شاید اس کے نام سے زیادہ اس سوال میں پوشیدہ ہے جو یہ دنیا سے پوچھتا ہے:کیا ہم ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے، یا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر؟

چین کا مؤقف واضح ہے کہ مستقبل کا عالمی نظام تصادم کے بجائے تعاون، تقسیم کے بجائے مکالمے اور طاقت کی سیاست کے بجائے انصاف اور مساوات پر مبنی ہونا چاہیے۔ایک سال پہلے پیش کیا گیا یہ اقدام شاید کسی ایک دن کے بحران کا جواب نہیں تھا۔ یہ آنے والی دہائیوں کے لیے عالمی نظام کے بارے میں ایک طویل مدتی سوچ ہے۔ گلوبل گورننس انیشی ایٹو نے وسیع پیمانے پر بین الاقوامی اتفاقِ رائے حاصل کیا ہے ۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اور اسے تقریباً 160 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے تائید و حمایت حاصل ہوئی ہے ۔ 60 سے زائد ممالک نے فعال طور پر “فرینڈز آف گلوبل گورننس گروپ ” میں شمولیت اختیار کی ہے اور عالمی نظم و نسق کے مختلف امور پر بھرپور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے فروغ اور استحکام اور گلوبل ساؤتھ کی نمائندگی اور مضبوط آواز میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

دنیا کے سامنے راستے آج بھی متعدد ہیں۔ایک راستہ زیادہ تقسیم، زیادہ محاذ آرائی اور زیادہ عدم اعتماد کی طرف جاتا ہے۔دوسرا راستہ مذاکرات، کثیرالجہتی اور مشترکہ ترقی کی طرف۔
گلوبل گورننس انیشی ایٹو اسی دوسرے راستے کا تصور پیش کرتا ہے۔اور شاید آج کی دنیا میں اس کی سب سے بڑی ضرورت بھی یہی ہے کہ عالمی حکمرانی کا مرکز صرف طاقت نہ ہو
بلکہ اقوام متحدہ، بین الاقوامی قانون اور سب سے بڑھ کر انسانیت ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.