News Views Events
Apna Watan

ورلڈ ہیومنائڈ روبوٹ گیمز: کھیل کے میدان سے روبوٹکس کی نئی دنیا تک

0

اعتصام الحق

بیجنگ میں جاری دوسرے ورلڈ ہیومنائڈ روبوٹ گیمز نے یہ واضح کر دیا ہے کہ روبوٹ اب صرف فیکٹریوں، تجربہ گاہوں یا تحقیقاتی مراکز تک محدود نہیں رہے۔یہ کھیل کے میدان میں بھی انسانوں کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں، دوڑ رہے ہیں، فٹ بال اور ٹیبل ٹینس کھیل رہے ہیں، موسیقی سنارہے ہیں اور مشکل جسمانی حرکات کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ دراصل یہ گیمز روبوٹکس کی تیزی سے بدلتی دنیا کی ایک ایسی جھلک پیش کر رہے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت، مشینی ادراک اور جسمانی صلاحیت ایک دوسرے سے جڑ رہے ہیں۔

دوسرے ورلڈ ہیومنائڈ روبوٹ گیمز کا آغاز 22 اگست کو بیجنگ میں ہوا اور یہ مقابلے 26 اگست تک جاری رہے ۔ ان گیمز میں 16 ممالک سے 666 ٹیمیں اور 2,056 روبوٹس شریک ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال منعقد ہونے والے پہلے گیمز کے مقابلے میں 138 فیصد زیادہ ہے۔ اس بار 51 مختلف مقابلے منعقد کیے گئے اور مجموعی طور پر 1,300 سے زیادہ میچز کھیلے گئے ۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ہیومنائڈ روبوٹس سے متعلق عالمی دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

افتتاحی تقریب بیجنگ میں ہوئی، جہاں ایک ہزار سے زائد ہیومنائڈ روبوٹس نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ تقریب میں انسانی فنکاروں کے ساتھ روبوٹس کی موسیقی، مختلف ممالک کی ٹیموں کی پریڈ اور روبوٹس کی منظم فارمیشن خاص توجہ کا مرکز رہی۔ 36 ہیومنائڈ روبوٹس نے انسانوں جیسی پانچ انگلیوں والے ہاتھوں کی مدد سے مختلف ساز بجا کر یہ دکھایا کہ روبوٹکس میں صرف طاقت اور رفتار ہی نہیں بلکہ باریک اور پیچیدہ حرکات کی صلاحیت بھی تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔

کھیلوں کے میدان میں بھی روبوٹس نے حیران کن کارکردگی دکھائی۔ فٹ بال، ٹیبل ٹینس اور ٹینس کے مقابلوں میں روبوٹس نے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ انسانی کھلاڑیوں کے ساتھ بھی مقابلہ کیا۔ روبوٹس کی پریڈ کے دوران ان کی ہم آہنگ حرکت نے بھی سب کو متاثر کیا۔ ہر روبوٹ اپنے راستے کا حساب خود لگاتا اور اپنی جسمانی پوزیشن کو مسلسل تبدیل کرتا رہا تاکہ پوری فارمیشن ایک ہی انداز میں آگے بڑھے۔ بعض روبوٹس نے جمناسٹک کی مشکل حرکات، جن میں “تھامس فلیئر ” بھی شامل ہے، پیش کرکے اپنی جسمانی توازن اور کنٹرول کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔

ان گیمز کا ایک اور دلچسپ پہلو 100 میٹر دوڑ تھی ۔ ابتدائی مرحلے کی ایک دوڑ میں ٹیم تیان ژو کے روبوٹ نے 9.39 سیکنڈ میں فاصلہ طے کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ وقت گزشتہ گیمز کے ریکارڈ سے بہتر تھا اور انسانی دنیا کے معروف 100 میٹر ریکارڈ، یوسین بولٹ کے 9.58 سیکنڈ، سے بھی کم ہے۔ اگرچہ روبوٹ اور انسان کی دوڑ کا براہ راست موازنہ کئی تکنیکی پہلوؤں کی وجہ سے محتاط انداز میں کیا جانا چاہیے، لیکن یہ نتیجہ روبوٹس کی رفتار اور موٹر کنٹرول میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کی علامت ضرور ہے۔

ان گیمز کو صرف ایک کھیلوں کا ایونٹ سمجھنا شاید ان کی اصل اہمیت کو محدود کرنا ہوگا۔ ہیومنائڈ روبوٹ گیمز دراصل روبوٹکس کی ٹیکنالوجی کو حقیقی اور پیچیدہ حالات میں آزمانے کا ایک بڑا پلیٹ فارم بن چکے ہیں۔ کھیلوں کے دوران روبوٹس کو توازن برقرار رکھنے، راستہ طے کرنے، اشیا کو سنبھالنے، فوری فیصلے کرنے اور بدلتی صورتحال کے مطابق اپنی حرکات کو ایڈجسٹ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی صلاحیتیں مستقبل میں صنعتی پیداوار، لاجسٹکس، صحت، تعمیرات، گھریلو خدمات اور ہنگامی حالات میں روبوٹس کے استعمال کے لیے اہم ہوں گی۔

ان مقابلوں کی خاص بات یہ بھی ہے کہ ان کا دائرہ صرف بیجنگ تک محدود نہیں رکھا گیا۔ ہیومنائڈ روبوٹس سے متعلق توانائی کی منتقلی اور ریلے طرز کی سرگرمیوں کا آغاز میلان ونٹر اولمپکس سے ہوا، جس کے بعد یہ سفر مشرقی چین کے فوجیان میں چائے کے باغات، جنوب مغربی چین کے سیچوان میں ڈریگن بوٹ ریس اور شمال مغربی چین کے سنکیانگ میں گھڑ سواری اور تیر اندازی کے مقابلوں تک پہنچا۔ مختلف مقامات پر جمع ہونے والی یہ علامتی قوت بیجنگ میں افتتاحی تقریب کے دوران یکجا ہوئی، جہاں ایک روبوٹ نے تیر چلا کر انٹیلی جنس چِپ کو روشن کیا، جو ان گیمز میں اولمپک مشعل کی علامتی حیثیت رکھتی ہے۔

روبوٹکس کی صنعت کے لیے ایسے مقابلے کئی حوالوں سے اہم ہیں۔ سب سے پہلے، یہ مختلف کمپنیوں اور تحقیقی اداروں کو اپنی ٹیکنالوجی ایک ہی میدان میں آزمانے کا موقع دیتے ہیں۔ دوسرے، مقابلوں کے ذریعے روبوٹس کی کمزوریاں بھی سامنے آتی ہیں، جنہیں انجینئرز بعد میں بہتر بنا سکتے ہیں۔ تیسرا، کھیلوں کے ذریعے عام لوگوں کو روبوٹکس کی پیچیدہ ٹیکنالوجی عملی شکل میں دیکھنے کا موقع ملتا ہے، جس سے اس شعبے کے لیے عوامی دلچسپی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

چین کے لیے بھی ان گیمز کی اہمیت خاصی زیادہ ہے۔ ملک پہلے ہی مصنوعی ذہانت، صنعتی روبوٹکس اور جدید مینوفیکچرنگ میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ہیومنائڈ روبوٹ گیمز ان شعبوں کو ایک ایسے پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی، تحقیق، صنعت اور بین الاقوامی تعاون ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ منتظمین کے مطابق ان گیمز کا مقصد تکنیکی تبادلے، صنعتی تعاون اور “ایمباڈیڈ انٹیلی جنس ” یعنی ایسی مصنوعی ذہانت کی ترقی کو فروغ دینا ہے جو صرف معلومات پر کارروائی نہ کرے بلکہ جسمانی دنیا میں حرکت اور عمل بھی کر سکے۔

ورلڈ ہیومنائڈ روبوٹ گیمز کا اصل مقابلہ شاید اس بات پر نہیں کہ کون سا روبوٹ سب سے تیز دوڑتا یا سب سے اچھا کھیلتا ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ مقابلے انسان نما مشینوں کو حقیقی دنیا کے پیچیدہ کاموں کے لیے کتنا بہتر بنا سکتے ہیں۔ بیجنگ میں ہونے ولاے یہ گیمز اسی ممکنہ مستقبل کی ایک جھلک ہیں، جہاں روبوٹ صرف انسانوں کے بنائے ہوئے اوزار نہیں ہوں گے بلکہ صنعت، تحقیق اور روزمرہ زندگی میں انسانوں کے ساتھ مل کر کام کرنے والے ذہین ساتھی بھی بن سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.